سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 359
سیرت المہدی 359 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو کچھ فرمایا تھاوہ ہوکر رہا۔خدا کی بات پوری ہوئی اور دنیا کی کوئی طاقت کوئی تدبیر، کوئی مکر اور حیلہ خدائی کلام کے پورا ہونے میں روک نہ بن سکا۔۱۸ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب شائع ہوئی اور منتظمہ کمیٹی جس کے اراکین ہر مذہب وملت کے ممبر اور اعلیٰ طبقہ کے ذمہ وار لوگ تھے، کی طرف سے اس کے خرچ وصرف سے شائع ہوئی۔تمام وہ مضامین جواس جلسہ میں پڑھے گئے یا اس کے واسطے لکھے گئے اس میں من وعن درج کئے گئے کہ دنیا اس مذہبی دنگل اور میدان مقابلہ میں آنے والے بھی کو یکجا دیکھ کر غور اور فیصلہ اور حق و باطل میں تمیز کر سکے۔مگر حقیقت یہ تھی کہ قرآن کریم کی عظمت ، اسلام کی حقانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدا کے مقرب اور مقبول بندے،اسی کے بلائے بولنے والے۔اس کے سچے نبی ورسول ہونے کے لئے بطور شاہد اور دلیل و برھان یہ امور قائم دائم رہیں۔حضور پر نور کا یہی وہ مضمون ہے جوار دو میں اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے اور انگریزی میں ٹیچنگز آف اسلام“ کے سر نامہ وعنوان کے ماتحت بار ہا ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر دنیا جہان کی روحانی لذت و سرور کے سامان اور ہدایت کے راستے آسان کرتا اور نہ صرف یہی بلکہ دنیا کی اور کئی زبانوں میں بھی چھپ کر شائع ہوتا چلا آ رہا ہے۔۱۹۔یہ رپورٹ شائع ہوئی اور خدا کی خدائی گواہ ہے کہ ہزار ہا انسانوں نے جو کچھ جلسہ میں دیکھا اور سنا تھا وہی کچھ رپورٹ میں درج ہوا۔وہی مضامین جو نمائندگان مذاہب نے لکھے اور سنائے اور پھر انہوں نے منتظمہ کمیٹی کے حوالے کئے۔ٹھیک ٹھیک اور بالکل وہی اور بعینہ طبع ہوئے تھے۔مگر کیا کہا جائے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اور ان کی عقل و دانش کو کہ انہوں نے رپورٹ کی اشاعت پر یہ واویلا شروع کر دیا کہ ان کے نام سے جو مضمون اس میں طبع کرایا گیا ہے، وہ درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں۔مولوی صاحب کی غرض و غایت اس الزام تراشی سے ظاہر ہے کہ مقابلہ میں شکست کی ذلت کو چھپا نا تھی۔حالانکہ ان کی یہ حرکت عذر گناہ بدتر از گناہ اور اپنے ہاتھوں اپنی خاک اڑانے کے مترادف تھی اور یہ امر تظمین سے پوشیدہ نہ تھا۔چنانچہ منتظمین نے مولوی صاحب کے اس واویلا اورغوغا کو درخوداقتناء ہی