سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 358 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 358

سیرت المہدی 358 اور اپنا وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے لئے وقف کر دیا جس کی وجہ ظاہر ہے عیاں راچہ بیاں۔مگر خدا کی شان! حاضری اتنی حوصلہ شکن تھی کہ جلسہ گاہ کے بھر جانے کی انتظار ہی انتظار میں وقت گزرنے لگا نہ مجلس کل کی طرح پر رونق ہو اور نہ مولوی محمد حسین صاحب کھڑے ہوں۔آخر بہت انتظار کے باوجود جب وہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی تو بادل ناخواستہ مجبوراً کھڑے ہوئے اور جو کچھ لکھا تھا پڑھ دیا اور زیادہ وقت لینے کے باوجود نہ خود خوش ہوئے نہ پبلک نے کوئی داد دی۔۱۷ ۲۹ دسمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کارروائی جلسہ شروع ہونے والی تھی۔دسمبر کا اخیر۔سردی کی شدت اور وقت اتنا سویرے کا تھا کہ لوگ ضروریات سے فراغت پا سکیں تو در کنار اتنی سویرے تو عام طور سے شہروں کے لوگ جاگنے کے بھی عادی نہیں ہوتے۔فکر تھی ، اندیشہ تھا کہ شاید حاضری بہت ہی کم رہے گی اور اس طرح آج وہ لطف شاید نصیب نہ ہو گا مگر خدا کے کام اپنے اندر ایک غیر معمولی جذب اور مقناطیسی کشش رکھتے ہیں جسے کوئی طاقت روک ہی نہیں سکتی۔انسان اگر غفلت دوستی دکھائیں تو وہ فرشتوں سے کام لیتا ہے۔چنانچہ سویرے ہی سویر سے ٹھٹھرتے ہوئے اور سردی سے سمٹتے اور سکڑتے ہوئے خلق خدا جھنڈ کے جھنڈ اور جوق در جوق اس کثرت اور تیزی سے آئی کہ ۲۷ کی دو پہر بعد کا نظارہ بھی مات پڑ گیا اور جلسہ نہایت شوکت وعظمت اور خیر و خوبی سے جاری وساری اور پھر نہایت کامیابی و کامرانی سے اختتام پذیر ہوا اور اس طرح حضور پرنور کا مضمون دنیا جہان پر عَلی رَغْمِ اُنُوفِ الْاَعْدَاء اپنے غلبہ، خوبی، کامیابی اور عظمت و حقانیت کا سکہ بٹھا کر علمی دنیا کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا نشان بن کر آسمان دنیا پر سورج اور چاند کی طرح چمکنے لگا۔اور دوست تو در کنار دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔اپنے اور بیگانے، پبلک اور منتظمین غرض ہر شعبہ میں اسی مضمون کا چرچا اور زبانوں پر حق جاری تھا۔اخبارات نے مقالے لکھے اور اس صداقت کا اقرار و اعتراف کیا۔منتظمہ کمیٹی نے اپنی طرف سے اس اقرار کور پورٹ متعلقہ میں درج کر کے اظہار حقیقت کیا۔سچ ہے چڑھے چاند چھپے نہیں رہ سکتے اور اس کا انکار بیوقوفی کی دلیل ہوتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے مقدس و مقبول بندے