سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 356
سیرت المہدی 356 وقت جانور تک خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہیں ہورہی تھی۔کم و بیش متواتر دو گھنٹے یہی کیفیت رہی۔اور افسوس کہ میں اس کیفیت کے اظہار کے قابل نہیں۔کاش میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے وہاں دیکھا اور سنا اس کے عکس کا عشر عشیر ہی بیان کر سکتا جس سے اس علمی معجزہ ونشان کی عظمت دنیا پر واضح ہو کر خلق خدا کے کان حق کے سننے کو اور دل اس کے قبول کرنے کو آمادہ وتیار ہوتے جس سے دنیا جہان کے گناہ، معاصی اور غفلتیں دور ہو کر ہزاروں انسان قبول حق کی توفیق پا جاتے۔۱۵۔ساڑھے تین بج گئے۔وقت ختم ہو گیا جس کی وجہ سے چند منٹ کے لئے اس پر لذت وسرور کیفیت میں وقفہ ہوا۔اگلا نصف گھنٹہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے مضمون کے لئے تھا۔انہوں نے جلدی سے کھڑے ہو کر پبلک کے اس تقاضا ء کو کہ ” یہی مضمون جاری رکھا جائے نیز کسی اور کی بجائے اسی مضمون کو وقت دیا جائے اسی مضمون کو مکمل و پورا کیا جائے اپنا وقت دے کر پورا کر دیا بلکہ اعلان کیا کہ میں اپنا وقت اور اپنی خواہش اس قیمتی مضمون پر قربان کرتا ہوں۔چنانچہ پھر وہی پیاری۔مرغوب اور دلکش و دلنشیں داستان شروع ہوئی اور پھر وہی سماں بندھ گیا۔چار بج گئے مگر مضمون ابھی باقی تھا اور پیاس لوگوں کی بجائے کم ہونے کے بڑھی جا رہی تھی۔سامعین کے اصرار اور خود منتظمین کی دلچسپی کی وجہ سے مضمون پڑھا جا تا رہاتی کہ ساڑھے پانچ بج گئے۔رات کے اندھیرے نے اپنی سیاہ چادر پھیلانی شروع کر دی۔مجبور آیہ نہایت ہی میٹھی اور پُر معرفت اور مسرت بخش مجلس اختتام کو پہنچی اور بقیہ مضمون ۲۹ دسمبر کے لئے ملتوی کیا گیا۔کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کو محسوس نہ کرتا ہو۔کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار و اعتراف نہ کرتی اور اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نہ تھی۔ہر کوئی اپنے حال اور قال سے اقرار و اعتراف کر رہا تھا کہ واقعی یہ مضمون سب پر غالب رہا اور اپنی بلندی۔لطافت اور خوبی کے باعث اس جلسہ کی زینت۔روح رواں اور کامیابی کا ضامن ہے۔نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ