سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 351
سیرت المہدی 351 عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ایام میں کسی ضرورت کے ماتحت سیالکوٹ جا کر بیمار ہو گئے اور ان کی بیماری کی اطلاعات سے اندیشہ تھا کہ وہ جلسہ پر نہ پہنچ سکیں گے اس پر لمبی سوچ بچار اور مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ حضور کا مضمون خواجہ کمال الدین صاحب پڑھیں چنانچہ اس فیصلہ کے ماتحت یہ تجویز کی گئی کہ (الف) حضور کا مضمون جسے محترم حضرت منشی جلال الدین صاحب متوطن بلانی ضلع گجرات نقل کرتے تھے کہ حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی کے سپرد یہ کام کیا گیا کتابت کے طریق پر لکھا جائے تا کہ خواجہ صاحب کو پڑھنے میں دقت نہ ہو مگر حضور پر نور کے پھر بیمار ہو جانے کی وجہ سے جب مضمون کی تیاری میں وقفہ پڑ گیا تو ہر دو اصحاب نے مل کر اس کو مکمل کیا۔(ب) اس مضمون میں جس قدر آیات قرآنی۔احادیث یا عربی عبارات آئیں وہ علیحدہ خوش خط لکھا کر خواجہ صاحب کو اچھی طرح سے رٹا دی جائیں تا کہ جلسہ میں پڑھتے وقت کسی قسم کی غلطی یار کا وٹ مضمون کو بے لطف و بے اثر ہی نہ بنا دے۔حضور پر ٹور کا یہ مضمون خوشخط لکھا ہوا صبح کی سیر میں لفظ لفظا سنایا جایا کرتا تھا اور حضور کی عام عادت بھی یہی تھی کہ جو بھی کتاب تصنیف فرمایا کرتے یا اشتہار و رسائل لکھا کرتے ان کے مضامین کو مجلس میں بار بارد ہرایا کرتے تھے۔اتنا کہ با قاعدہ حاضر رہنے والے خدام کو وہ مضامین از بر ہو جایا کرتے تھے۔ان ایام کی سیر صبح عموماً قادیان کے شمال کی جانب موضع بڑ کی طرف ہوا کرتی تھی اور اسی مضمون کے سننے کی غرض سے قادیان میں موجود احباب اور مہمان قریباً تمام ہی شوق اور خوشی سے شریک سیسر ہوا کرتے جن کی تعداد تخمیناً پندرہ بیس یا پچیس تک ہوا کرتی تھی۔مضمون کے بعض حصوں کی تشریح بھی حضور چلتے چلتے فرماتے جایا کرتے تھے۔یہ تحریر و تقریر نئے نئے نکات۔عجیب در عجیب معارف اور ایمان افروز حقائق و دلائل کی حامل ہوا کرتی تھی۔ان دنوں کی سیر صبح میں جس کے لئے حضور باوجود بیماری اور ضعف کے نکلا کرتے تھے بعد میں معلوم ہوا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے بعض جاسوس بھی حضور کے اس مضمون کو سن کر ان کو رپورٹ پہنچایا کرتے تھے چنانچہ حضور کے مضمون کی اکثر آیات جن کو حضور نے موقعہ ومحل پر موتیوں کی