سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 348
سیرت المہدی ۲۔348 ضرورت پیش آتی ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ اس کے پورا کرنے کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔“ ۱۸۹۲ء کے نصف دوم کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان ، سادھو منش، بھگوے کپڑوں میں ملبوس شوگن چندر نام وارد قادیان ہوا اور جلد ہی ہماری مجالس کا ایک بے تکلف رکن نظر آنے لگا۔ایک آدھ دن سید نا حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں شریک ہوا تو دوسرے ہی روز وہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار شام اور اور صبح کی سیر میں شامل ہو کر حضور کی خاص تو جہات کا مورد بن گیا۔کیونکہ وہ شخص اپنے آپ کو حق کا متلاشی اور صداقت کا طالب ظاہر کرتا ہوا اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لئے آسانی پانی کی تلاش میں دور ونزدیک ، قریہ بقر یہ بلکہ کو بکوسرگردان پھرتا ہوا قادیان کی مقدس بستی میں اپنے مدعا و مقصود کے حصول کی امید لے کر آیا اور کچھ لے کر ہی لوٹنے کی نیت سے پہنچا تھا اور اس کی نیک نیتی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ باوجود بالکل غیر ہونے کے بہت جلد اپنالیا گیا۔وہ نہ صرف سادھو تھا جو بھگوے کپڑوں میں اپنا فقر و حاجات چھپائے تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سوالی جس کو دام و درہم کی ضرورت اور روپیہ پیسہ کالالچ قادیان میں تقسیم ہوتے خزائن کی خبریں یہاں کھینچ لائی ہوں بلکہ واقعہ میں متلاشی حق اور طالب صداقت تھا ور نہ خدا کا برگزیدہ مسیح الزمان جس کی فراست کامل جو ہر شناس تھی اور جو خدا کے عطاء فرمودہ نور سے دیکھا کرتا تھا یوں اس کی طرف ملتفت نہ ہو جاتا۔شوگن چندر ایک تعلیم یافتہ اور معقول انسان تھا جو گورنمنٹ میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھا۔بعض حوادث نے دنیا کی بے ثباتی کا ایک نہ مٹنے والا خیال اس کے دل و دماغ پر مستولی کر دیا۔اس کی بیوی اور بچے بلکہ خویش واقارب تک اس سے جدا ہو گئے اور وہ یک و تنہا رہ گیا۔دل و دماغ میں پیدا شدہ تحریک نے اندر ہی اندر پرورش پائی۔فانی چیزوں کے اثرات نے اس کے خیالات کی روکا رخ کسی غیر فانی اور قائم بالذات ہستی کی تلاش کی طرف پھیر دیا جس سے متاثر ہو کر اس نے ملازمت چھوڑ کر ترک دنیا اور تلاش حق کا عزم کر لیا اور سادھو بن کر جا بجا گھومنے اور ڈھونڈنے میں مصروف ہو گیا۔نہ معلوم کتنا عرصہ پھرا اور کہاں کہاں گیا۔اس نے کیا کچھ دیکھا اور سنا جس کے بعد کسی نے اس کو ہمارے آقا ومولا ، ہادی و راہ نمائے زمان کا پتہ دیا اور قادیان کی نشان دہی کی جس پر وہ صدق دلانہ اخلاص وعقیدت سے پہنچ کر حصول مقصد و