سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 347
سیرت المہدی 347 نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر جلسہ اعظم مذاہب لاہور یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا“ الله اکبر خربت خیبر " سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جوش تبلیغ اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے لگن اور دھن کی کیفیت کا بیان انسانی طاقت سے باہر ہے۔اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ - حضور کا منصب و کام ہی خداوند عالم نے اسلام کو تمام دوسرے مذاہب پر غالب کر دکھانا مقرر فرمایا ہے اور جن خواص کو یہ خدمات تفویض ہوا کرتی ہیں ان کے بَلغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ کا حکم الہی ہمیشہ قائم ہوتا ہے۔حضور پُر نور نے حق تبلیغ کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور نہ ہی کوئی فروگذاشت کی۔کیا دن، کیا رات حضور کو یہی فکر رہتی اور حضور کوئی موقعہ تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہ دیا کرتے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے اور پھرتے خلوت میں اور جلوت میں الغرض ہر حال میں اسی فکر اور اسی دھن میں رہتے چنانچہ حضور پرنور کی سوانح کا ہر ورق اور حیات طیبہ کا ہر لمحہ بزبان حال اس بیان کا گواہ اور شاہد عادل ہے۔لمبے مطالعہ اور حضور کی تصانیف کی گہرائیوں کو الگ رکھ کر اگر حضور کے صرف ایک دو ورقہ اشتہار پر ہی بہ نیت انصاف - تعصب سے الگ ہو کر نظر ڈالی جائے جو حضور نے 9 دسمبر ۱۸۹۰ء کو شائع فرمایا تو یقیناً میرے اس بیان کی تصدیق کرنا پڑے گی اور حضور کی اس سچی تڑپ اور خلوص نیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی ہر رنگ میں آپ کی غیر معمولی تائید و نصرت فرما تا اور غیب سے سامان مہیا فرما دیا کرتا اور حضور خدا کے اس فضل و احسان کا اکثر تحدیث نعمت کے طور پر یوں ذکر فرمایا کرتے کہ ” خدا کا کتنا فضل و احسان ہے کہ ادھر ہمارے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے یا کوئی