سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 339
سیرت المہدی 339 بسم اللہ الرحمن الرحیم رائے کنورسین کے خط کا تعارف ایک شریف النفس ہند والالہ بھیم سین بٹالہ میں مولوی گل علی شاہ کے مدرسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم مکتب تھے اور اس زمانہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک قلبی تعلق اور بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔لالہ بھیم سین بعد میں سیالکوٹ میں وکالت کرتے تھے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک سیالکوٹ میں ملازم تھے تو وہاں جن افراد کے ساتھ آپ کا تعلق تھا ان میں لالہ بھیم سین بھی تھے۔حضور دفتری اوقات کے بعد اکثر لالہ صاحب کی قیام گاہ پر جاتے تھے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لالہ بھیم سین کو ایک طویل خط بھی لکھا تھا جس میں بت پرستی کے رد میں قرآن کریم کی تعلیمات پیش کی گئی ہیں۔یہ خط لالہ صاحب کے کاغذات سے ان کے بیٹے نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو دے دیا تھا۔یہ خط مکتوبات احمد یہ میں شائع ہو چکا ہے۔جب ان کے بیٹے کنورسین انگلستان سے بارایٹ لاء کر کے پنجاب کی عدالتوں میں پریکٹس کرتے تھے تو لالہ بھیم سین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیشکش کی تھی کہ ان کا بیٹا حضور کے مقدمات میں بلا معاوضہ پیش ہوا کرے۔لیکن حضور نے اس پیشکش کو منظور نہیں فرمایا۔بعد میں جناب کنورسین صاحب پر نسپل لاء کالج لاہور بنے اور پھر ریاست ہائے کشمیر جودھ پورا لور وغیرہ میں چیف جسٹس وجوڈیشل منسٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔اپنے والد کی طرح بیرسٹر کنورسین کو بھی حضور سے انتہا درجہ کی عقیدت تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ڈیرہ دون میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔بیرسٹر کنورسین کے ایک صاحبزادے مسٹر گوپال چندرسین جب جودھ پور میں ملازم تھے تو وہاں ایک احمدی علی محمد صاحب نے سیرت المہدی کی جلدیں ان کو دیں کہ ان میں ان کے خاندان کا ذکر ہے۔غالبا ان کے لڑکے گوپال سین یہ کتب اپنے ساتھ ڈیرہ دون لے گئے تھے اور انہوں نے اپنے والد کو متعلقہ حصے پڑھ کر سنائے تھے۔جس پر رائے کنورسین نے ڈیرہ دون سے علی محمد صاحب کو کتابوں کے بھیجنے پر شکریہ کا خط لکھا اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھا ہے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مرزا صاحب ان کے گھر آیا کرتے تھے کیونکہ ان کے والد ان کے گہرے دوست تھے۔اور ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر ہمارے لٹریچر میں نہیں ہے۔علی محمد صاحب نے ۱۹۴۵ء کی ابتداء میں بیرسٹر کنورسین صاحب کا انگریزی میں ٹائپ شدہ جواب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو بھجوا دیا تھا جسے آپ نے سلسلہ کی تاریخ سے متعلق دستاویزات میں محفوظ کر دیا تھا۔اگلے صفحات میں ان دونوں خطوط کا عکس دیا جا رہا ہے۔سید عبدالحی