سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 329 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 329

سیرت المہدی 329 مكتوب مكرم محمد نصیب صاحب بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم بخدمت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ میں اخبار بدر دیکھ رہا تھا اس میں ۲۷ فروری ۱۹۰۸ء کے اخبار میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تقریر جو آپ نے ۷ار فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں آپ کے سامنے فرمائی ، حسب ذیل پائی گئی۔اس کی نقل پیش خدمت ہے۔گزشتہ ہفتہ میں مختصر نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا نکاح صاحبزادی مبارکہ بیگم کے ساتھ ۷ار فروری کو ہونا ذکر کیا گیا تھا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ نکاح میں کیا خوب فرمایا تھا۔کہ ایک وقت تھا جبکہ حضرت نواب صاحب موصوف کے ایک مورث اعلیٰ صدر جہان کو ایک بادشاہ نے اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خان صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے۔نواب صاحب موصوف کے خاندان میں حق مہر کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ کئی کئی لاکھ مقرر کیا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی قومی رسم کے مطابق اب بھی یہی کہا تھا مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے پسند نہ فرمایا۔تا ہم نواب صاحب کی وجاہت اور ریاست کے لحاظ سے چھپن ہزار روپے حق مہر مؤجل مقرر ہوا۔“ اس عبارت کی نقل کرنے اور خدمت والا میں عرض کرنے کی غرض یہ ظاہر کرنا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق کیا خیال تھا؟ خادم محمد نصیب ۱۶_۱_۴۱