سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 26

سیرت المہدی 26 26 حصہ چہارم میرٹھ میں گزاری تھی اور سنہ ۱۹۴۱ء بکرمی میں کپورتھلہ میں آیا جب کہ میری عمر ۲۰٫۲ سال کی تھی۔میرے کپورتھلہ آنے سے قبل کی بات ہے کہ حاجی ولی اللہ صاحب جو کپورتھلہ میں سیشن جج تھے وہ رخصت پر اپنے وطن سرا وہ ضلع میرٹھ میں گئے۔اس وقت میرے والد صاحب اور میں بوجہ تعلق رشتہ داری اُن سے ملنے کے لئے گئے۔حاجی ولی اللہ صاحب کے پاس براہین احمدیہ کے چاروں حصے تھے۔اور حاجی صاحب موصوف مجھ سے براہین احمد یہ سنا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ کتاب حضرت مرزا صاحب نے بھیجی ہے۔اُن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خط و کتابت تھی۔جب میں حاجی صاحب کو براہین احمد یہ سنایا کرتا تھا تو اس دوران میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت ہوگئی۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت جب کہ میں براہین احمد یہ سنایا کرتا تھا تو سامعین کہا کرتے تھے کہ اس کتاب کا مصنف ایک بے بدل انشاء پرداز ہے۔1011 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حاجی ولی اللہ جو ہمارے قریبی رشتہ دار تھے اور کپورتھلہ میں سیشن جج تھے۔اُن کے ایک ماموں منشی عبد الواحد صاحب ایک زمانہ میں بٹالہ میں تحصیلدار ہوتے تھے۔منشی عبدالواحد صاحب بٹالہ سے اکثر اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو ملنے کے لئے جایا کرتے تھے اور وہ بیان کرتے تھے کہ اس وقت حضرت صاحب کی عمر ۴/۱۵ سال کی ہوگی۔اور بیان کرتے تھے کہ اس عمر میں حضرت صاحب سارا دن قرآن شریف پڑھتے رہتے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے۔اور مرزا غلام مرتضی صاحب حضرت صاحب کے متعلق اکثر فرماتے تھے کہ میرا یہ بیٹا کسی سے غرض نہیں رکھتا۔سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن شریف پڑھتارہتا ہے۔منشی عبدالواحد صاحب قادیان بہت دفعہ آتے جاتے تھے۔اُن کا بیان تھا کہ میں نے حضرت صاحب کو ہمیشہ قرآن شریف پڑھتے دیکھا ہے۔1012 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے ایک دفعہ ایک مرض کے متعلق عبد الواحد صاحب کو اپنے صرف سے دوسو روپیہ کی مجون تیار کر کے دی جس سے مرض جاتا رہا۔عبد الواحد صاحب نے بعدش قیمت ادا کرنی چاہی۔جو مرزا صاحب نے قبول نہ فرمائی۔