سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 321
سیرت المہدی 321 حصہ پنجم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے محمد بخش نام کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر محمد بخش سے یہ مراد لی جائے کہ محمد کے طفیل بخشا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔1585 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ مرزا حاکم بیگ کی شادی پر اس کے سسرال نے آتش بازی، تماشے اور باجے کا تقاضا کیا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میرے سسرال والے یہ چاہتے ہیں۔حضور کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ سب نا جائز ہیں مگر مومن بعض وقت ناجائز سے بھی فائدہ اٹھالیتا ہے مثلاً شہر میں وبائی مرض پھیلی ہوئی ہے۔ایک شخص اس خیال سے آتش بازی چھوڑتا ہے کہ اس سے ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا تو وہ اس سے بھی گویا ثواب حاصل کرتا ہے۔اور اسی طرح باجے کے متعلق اگر اس شخص کی یہ نیت ہو کہ چونکہ ہم نے دور تک جانا ہے اور باجے کے ذریعے سے لوگوں کو علم ہو جائے گا۔کہ فلاں شخص کی لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے ہوا ہے اگر اس نے اس نیت سے باجا بجوایا تو یہ ایک اعلان کی صورت ہو جائے گی۔اس میں بھی ناجائز کا سوال اٹھ گیا۔1586 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے والد منشی احمد جان صاحب مرحوم حج کو جانے لگے تو حضرت صاحب نے ایک خط ان کو لکھ کر دیا کہ یہ خط وہاں جا پڑھنا۔چنانچہ میرے والد صاحب نے عرفات کے میدان میں وہ خط پڑھا۔اور ہم نے وہ خط سنا۔اس کے الفاظ خاکسار کو یاد نہیں۔ہم ہیں آدمی اس خط کو سُن کر آمین کہنے والے تھے۔۔پیرا 1587 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پی افتخار احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بشیر اول کے عقیقہ ہیم۔کے وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا والد رحیم بخش قادیان میں تھا۔اس نے بچے کو بال مونڈنے کے وقت گودی میں لیا ہوا تھا۔اور بیت الفکر میں ہم پندرہ کے قریب آدمی حضور کے ساتھ تھے اور اتنے ہی آدمی ہمشکل اس کمرہ میں آسکتے تھے۔حضرت میر محمد الحق صاحب کے والد جو اس تقریب میں تشریف لا رہے تھے بوجہ بارش بٹالہ میں ہی رکے رہے۔گویا اس دن بارش خوب ہو رہی تھی۔1588 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے