سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 322 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 322

سیرت المہدی 322 حصہ پنجم بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص نجا تھا۔اس کی بیوی ابھی آٹھ دس سال کی بچی تھی اور وہ کالی سی تھی۔اور حضرت صاحبزادہ مبارک احمد کے ساتھ ساتھ رہتی۔گویا یہ نوکرانی تھی۔حضور اس کو فرماتے کہ ادھر آؤ اور مبارک احمد کو اچھی طرح سے رکھا کرو۔ہم اس وقت تین لڑکیاں تھیں ،صفیہ، صغری ، امۃ الرحمان تو ہم نے حیران ہو جانا کہ ہم اس کو ذلیل سمجھتی ہیں اور حضرت صاحب اس کو بھی ادب سے بلاتے ہیں۔1589 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ حضور ایک دالان میں ہوتے اور عورتیں بھی وہاں ہوتیں اور ہر وقت اپنے کام تحریر میں لگے رہتے ان کو کوئی خبر نہ ہوتی تھی کہ کون آیا اور کون گیا۔ایک لڑکی ہم تینوں میں سے بغیر اجازت کوئی چیز کھا لیتی۔ایک دن وہ صحن میں بیٹھے آم کھا رہے تھے۔ہم دولڑ کیاں اوپر سے گئیں اور آم لے لئے۔ایک عورت آگئی اور کہنے لگی تم نے آم کہاں سے لئے۔ہم نے کہا حضرت صاحب نے دئے ہیں۔اس نے کہا نہیں تم نے خود ہی لئے ہیں۔حضور نے تجھ کو نہیں دئے ان کو کہاں نظر آتا ہے۔ان کو تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔کوئی آئے کوئی جائے۔حضور بیٹھے تھے میں آئی اور حضور کو خبر تک نہیں۔1590 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان فرمایا کہ حضور ہمیشہ وضو سے رہتے تھے اور فسل بھی روز فرماتے۔حضور نہایت رحیم کریم تھے۔اگر حضور کوئی خاص دوائی یا غذا بنواتے تو کسی خاص اعتبار والے سے بنواتے۔یہ خادمہ جب تک نوکر رہی ، چیز میں حضور کی بنایا کرتی۔1591 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ جب حضور ” سناتن دھرم کتاب تصنیف فرما رہے تھے۔تو ان دنوں میں مجھ کو بلانے آئے تو حضور کی زبان مبارک سے امتہ الرحمان کی جگہ سناتن دھرم کے لفظ نکل گئے۔تو ایک دن میں نے حضور سے عرض کی حضور مجھ کو فکر ہو گیا۔حضور کی زبان مبارک سے میری بابت یہ کیوں ہندو لفظ آجاتا ہے تو حضور نے فرمایا امۃ الرحمان یہ کوئی برا لفظ نہیں ہے۔اس کے معنے ہیں پرانا ایمان۔پھر جب بھی یہ لفظ کہتے حضور ہنس پڑتے اور چہرہ چمک جاتا۔