سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 320
سیرت المہدی 320 حصہ پنجم نے جیب میں کنکر دیکھ کر پوچھا تو آپ نے کہا کہ ان کو جیب میں ہی رہنے دو یہ میاں محمود کی امانت ہے اور اماں جان نے جیب میں ہی رہنے دئے۔❤1582 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر مولا بخش صاحب ریٹائرڈ مدرسہ احمدیہ قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ موسمی تعطیلات میں میں یہاں آیا ہوا تھا۔ستمبر کا مہینہ تھا سن اور تاریخ یاد نہیں۔مسجد مبارک کی توسیع ہو چکی تھی۔میں صبح آٹھ بجے مسجد مبارک میں اکیلا ہی ٹہل رہا تھا کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کھڑکی سے جو مسجد مبارک میں کھلتی ہے تشریف لائے۔ذرا سی دیر بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب مرحوم یا خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم اندرونی سیڑھیوں کی راہ سے مسجد میں آگئے۔حضرت اقدس مسجد کے پرانے حصہ میں کھڑ کی سے مشرقی جانب فرش پر تشریف فرما ہوئے اور ان سے باتیں کرنے لگ گئے اور خاکسار آہستہ آہستہ حضرت اقدس کے دست مبارک دبانے لگا۔باتیں کرتے کرتے آپ کے جسم مبارک میں جھٹکا سا لگا اور سارا بدن کانپ گیا اور میرے ہاتھوں سے آپ کی کلائی چھوٹ گئی۔آپ فورا اندر تشریف لے گئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ یہ نزول وحی کا وقت ہے۔1583 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب کی وفات پر جب جنازہ لے کر قبر پر گئے تو قبر تیار نہ تھی۔اس وسطے وہیں ٹھہر نا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقبرے کے شمال کی طرف درختوں کی قطار کے نیچے بیٹھ گئے۔باقی احباب آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔اس وقت آپ نے جو تقریر کی وہ تو مجھے یاد نہیں مگر اس کا اثر یہ تھا کہ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان لوگوں کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے اور حضور ماتم پرسی کے لئے آئے ہیں اور ان کو تسلی دے رہے ہیں۔لکھے تھے۔1584 منشی محمد اسماعیل صاحب نے بیان فرمایا کہ بالکل یہی الفاظ میں نے سید حامد شاہ صاحب کو بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب