سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 319
سیرت المہدی 319 حصہ پنجم لے آئے اور کہنے لگے جو پسند ہو لے لو۔اس نے کہا مجھے دونوں پسند ہیں تو حضور نے دونوں دے دئے۔1579 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور اپنی مجلس میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کو چاہئے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آیا کریں۔اور عورتوں کو فرمایا کرتے کہ عورتوں کو اپنے گھر کو جنت بنا کر رکھنا چاہئے اور مردوں کے ساتھ بھی اونچی آواز سے پیش نہیں آنا چاہئے اور میں جب کبھی حضرت صاحب کے گھر آتی تو میں دیکھا کرتی کہ حضور ہمیشہ ام المومنین کو بڑی نرمی کے ساتھ آواز دیتے۔محمود کی والدہ یا کبھی محمود کی اماں ! یہ بات اس طرح سے ہے اور اپنے نوکروں کے ساتھ بھی نہایت نرمی سے پیش آتے۔مجھے یاد نہیں آتا کہ حضور کبھی کسی کے ساتھ سختی سے گفتگو کرتے ، ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ بولتے۔1580 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی نے ماسٹر صاحب سے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں میں یہ بری عادت ہے کہ ذرا سی بات میں گالیاں اور کوسنوں پر اتر آتی ہیں بجائے اس کے اگر وہ اپنے بچوں کو نرمی سے پیش آئیں اور بجائے گالی کے نیک ہو“ کہہ دیا کریں تو کیا حرج ہے۔عورتیں ہی اپنے بچوں کو گالیاں سکھاتی ہیں اور بُرے اخلاق پیدا کرتی ہیں۔اگر یہ چھٹے تو بچوں کی بہت اچھی تربیت ہو سکتی ہے۔اگر میاں بیوی میں ناراضگی ہو جاوے تو چاہئے کہ دونوں میں سے ایک خاموش ہو جائے تو لڑائی نہ بڑھے اور نہ بچے ماں باپ کو تو تو میں میں کرتے سنیں بچہ تو وہی کام کرے گا جو اس کے ماں باپ کرتے ہیں اور پھر یہ عادت اس کی چھوٹے گی نہیں۔بڑا ہو گا ماں باپ کے آگے جواب دے گا پھر رفتہ رفتہ باہر بھی اسی طرح کرے گا اس لئے عورتوں کو اپنی زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔آپ بیعت کرنے والوں کوضرور کچھ روز اپنے گھر ٹھہراتے تھے۔1581 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت میاں صاحب باہر سے کھیلتے کھیلتے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جیب میں دو یا ایک چھوٹے چھوٹے پتھر ڈال دئے۔پھر حضور جب اندر تشریف لائے تو اماں جان سے کہا کہ میرے کوٹ سے قلم نکال لاؤ یا کسی کا خط منگایا۔یاد نہیں۔تو اماں جان