سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 316
سیرت المہدی 316 حصہ پنجم وہ اخبار کی ایڈیٹری پر ملا زم ہوئے تھے۔وہ بہت پرانے احمدی تھے۔وہ دو دفعہ مجھے قادیان لائے بیعت کے لئے مگر میں نے نہیں کی۔آہستہ آہستہ مجھے جب سمجھ آگئی تو پھر ماسٹر صاحب مجھے بیعت کے لئے لائے اور میں نے بیعت کی۔میرے ہمراہ شیخ یعقوب علی صاحب کی اہلیہ تھیں۔انہوں نے میری بیعت کروائی تھی۔ان دنوں حضرت صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی) میاں بشیر احمد صاحب، مبارکہ بیگم صاحبہ یہ سب چھوٹے بچے تھے۔اور یہ کھیلتے کھیلتے کمرے میں داخل ہو گئے۔اور دروازہ بند کر لیا۔دروازہ ایسا بند ہوا کہ کھلے نہ اور بچے اندر روئیں۔ان کے رونے سے حضرت اماں جان بے ہوش ہو گئیں۔ہم سب نے ہر چند دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر نہ کھلے پھر کسی نوکر نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی تو حضرت علیہ السلام نے بڑھئی کو بلا کر دروزہ کھلوایا تو پھر بچے اندر سے نکلے۔اُسی دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر کی تھی۔یہ امرتسر کا ذکر ہے کہ جب شام ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر شروع ہوئی۔تو دشمنوں نے پتھر برسانے شروع کر دئے۔شیشے دروازوں کے توڑ دئے۔اور اماں جان دوبارہ بے ہوش ہو گئیں۔ہم سب عورتیں چھپ گئیں۔کوئی پاخانے میں کوئی چار پائی کے نیچے کوئی کہیں کوئی کہیں۔پھر خدا جانے کسی طرح پتھر بر سنے بند ہو گئے۔حضرت علیہ السلام سے بیعت کرنے والے آپ کے چاروں طرف بیٹھ جاتے اور حضرت ان سے بیعت لیتے۔یہ حضرت صاحب کے اوصاف حمیدہ میں سے ہے کہ آپ عورتوں کو کبھی بھی کھلی لمبی آنکھوں سے نہ دیکھتے تھے۔جب کمرے سے باہر نکلتے تو کوٹ ، واسکٹ صافہ ہمیشہ پہن کر نکلتے۔میں نے کئی بار آپ کو صحن میں ٹہلتے ٹہلتے لکھتے دیکھا۔دودوا تیں ہوتی تھیں۔ادھر گئے تو ادھر سے دوات سے قلم بھر لیتے تھے اور لکھتے ، ادھر گئے تو اُدھر سے قلم بھر لیتے اور لکھتے اور اگر کسی نے مسجد سے آواز دینی تو آپ تشریف لے جاتے۔اور لوگوں نے دوڑ کر آگے پہنچے ہونا۔گر د سخت اڑتی تھی۔اور حضرت صاحب صافہ کا پلو منہ اور ناک کے آگے لے لیتے اور ہر ایک کے ساتھ محبت اور اخلاص کے ساتھ پیش آتے۔ان دنوں راستے بہت خراب تھے۔جنگل ہی جنگل تھا۔گنتی کے آٹھ دس مکان تھے جب ہم نے امرتسر سے قادیان ٹانگا پر آنا تو کتنی کتنی اونچی جگہ ٹانگے نے چڑھ جانا اور پھر نیچے اتر نا۔ہچکولے بہت لگتے تھے مگر ہمارے دلوں میں تڑپ تھی۔اس لئے ہمیں پرواہ نہیں ہوتی