سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 315 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 315

سیرت المہدی 315 حصہ پنجم ان دونوں کو سزا قید ہوئی۔جس وقت ان دونوں کے ہتھکڑیاں پڑیں۔پیچھے ان کے بیوی بچے روتے جاتے تھے۔بہت رحم آتا تھا۔بابومحمد اسماعیل صاحب کہتے تھے کہ اصل مجرم تو میں تھا۔حضرت صاحب کی دعا سے خدا نے مجھے بچایا۔ورنہ میری رہائی کی کوئی صورت نہ تھی۔اب کی چھٹیوں پر مجھے چا محمد اسماعیل صاحب لاہور ملے تھے۔میں نے وہ مقدمہ والا حال یاد دلایا اور کہا کہ آپ نے وہ زمانہ دیکھا تھا۔جب یکے پر قادیان دعا کے لئے گئے تھے۔اب یہاں آ کر ترقی کا زمانہ دیکھو اور آپ کو والد صاحب نے نعمت اللہ ولی کے شعر سنائے تھے۔آپ نے لکھ لئے تھے۔اب ذرا پسرش یاد گار کی زیارت خود کیجئے۔کہنے لگے جلسے پر ضرور آؤں گا۔حضرت محمود احمد صاحب کی زیارت کروں گا۔انہوں نے دو دفعہ حج کیا تھا بہت بوڑھے ہو گئے تھے اسی ماہ اکتوبر میں فوت ہو گئے۔ان کے بیٹے مقدمے وغیرہ کے گواہ ہیں اور میری والدہ صاحبہ بھی گواہ ہیں۔بلکہ ان کا اور میرا مضمون واحد ہے۔1572 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کے چوٹ لگی جس سے خون نکلتا تھا۔اور حضرت فرما رہے تھے کہ خدا کی بات کبھی نہیں ملتی اور خوشی کا اظہار فرمارہے تھے۔گھر گئی تو والد صاحب نے بتایا کہ آپ کو الہام ہوا تھا کہ میاں مبارک احمد صاحب کو چوٹ لگے گی۔1573 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میری عمر ۱۳ برس کی تھی۔جب میری شادی احمد حسین مرحوم سے ہوئی تو میری عمر گیارہ یا بارہ برس کی تھی۔نادانی کی عمر تھی۔ماسٹر صاحب مجھے بہت سمجھایا کرتے ، مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آتا جب وہ مجھے بیعت کو کہتے تو میں انکار کر دیتی۔کہ میں کیوں غیر مردوں کی بیعت کروں۔ماسٹر صاحب بہت سمجھاتے مگر کچھ مجھ میں ہی نہ آتی کیونکہ ہندوستان سے گئی تھی جہاں پر جہالت ہی جہالت تھی۔اور ان دنوں ماسٹر صاحب اخبار کے ایڈیٹر تھے۔حضرت مسیح موعود نے دہلی سے بلوایا تھا۔وہاں پر وہ حسن نظامی کے پاس ملازم تھے۔وہاں پر سے آکر