سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 314 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 314

سیرت المہدی 314 حصہ پنجم کی سزا سے بچ جائے گا۔اس پر وہ کہنے لگے کہ دعا کراؤ۔والد صاحب نے کہا کہ کھانا کھالو۔ظہر کی نماز کے وقت مسجد چلیں گے پھر دعا کے لئے عرض کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں روٹی نہیں کھاتا مجھے روٹی اچھی نہیں لگتی پہلے دعا کراؤ۔اور جب سے مقدمہ ہوا ہے میں نے کبھی بھی خوشی سے روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ہر وقت متفکر ، جان سے بیزار روتا رہتا ہوں۔بہت گھبراتے تھے۔آخر والد صاحب مجھے ہمراہ لے کر حضرت صاحب کے مکان پر آئے۔مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے راستے میں اوپر حضور والا کے پاس پہنچی۔میرے والد صاحب مسجد میں ٹھہرے اور بابو صاحب سیٹرھیوں میں بیٹھ گئے میں نے جا کر کہا کہ میرے والد صاحب اور چچا زاد بھائی بابومحمد اسماعیل آئے ہوئے ہیں۔ان پر کوئی بڑا سخت مقدمہ ہے آپ کو دعا کے کئے عرض کرتے ہیں۔آپ اس وقت چھوٹے تخت پوش پر بیٹھے لکھ رہے تھے۔پاس لکھے ہوئے کاغذ پڑے تھے۔فرمایا کہ ان سے پوچھ آؤ کہ کچھ تمہارا جرم بھی ہے؟۔میں نے اسی طرح جا کر کہا۔انہوں نے کہا کہ ہاں میں بڑا مجرم ہوں۔میں نے خیانت کی پرائیویٹ دکان سرکاری ملازم ہو کر کھولی وغیرہ وغیرہ۔خود زبانی عرض کروں گا۔حضور اقدس نے فرمایا کہ دعا کریں گے۔میں نے جا کر کہہ دیا کہ وعدہ کیا ہے دعا فرما دیں گے۔لیکن ان کو تسلی ہی نہ ہووے۔بہتیرا والد صاحب نے سمجھایا۔تسلی دی وہ بار بار یہی کہیں کہ تم حضرت صاحب کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا آؤ میری منتیں کریں میں پھر حضرت صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ حضرت جی وہ سیڑھیوں میں بیٹھے ہیں جاتے نہیں مجھے کہتے ہیں کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھوا کر آ۔حضور اقدس نے سنتے ہی دعا کے لئے دست مبارک اٹھائے اور میں بھاگی سیڑھیوں کی طرف گئی۔کہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ہیں۔دعا ہورہی ہے۔پھر والد صاحب نے مجھے کہا کہ اب تم گھر کو جاؤ۔میں گھر چلی گئی۔بعد میں پتہ نہیں نماز کے وقت حضرت سے ملے یا نہ ملے۔پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد شاید ماہ ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی وہ اپنی خوشی سے تحفے تحائف لے کر آئے اور میرے لئے بھی کپڑے، چانی ، جوتی، پھل وغیرہ لائے۔اور حضرت اُم المومنین کے لئے بھی چوڑیاں ، خوبصورت کنگھیاں بہت سے فروٹ میرے ہاتھ بھیجے اور حضور اقدس کو ملے۔بہت شکریہ کرتے تھے۔نقدی بھی دی۔پتہ نہیں اس مقدمے میں دو اور بھی گرفتار تھے۔ایک کا نام بابو عبد العزیز اور دوسرے کا نام بابوعلی بخش تھا۔ان کا خفیف سا جرم تھا۔تاہم