سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 25

سیرت المہدی 25 حصہ چہارم کرم دین کی ولدیت و سکونت کتاب میں درج ہوتی۔کیا دنیا میں اور کوئی کرم دین نہیں ہے صرف تو ہی " کرم دین ہے؟ 1007 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کرم دین نے ڈپٹی کی عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مرزا صاحب نے میرے بھائی محمد حسین کے متعلق کہا ہے کہ مرتے وقت اس کا منہ سیاہ ہو گیا ہے اس طرح اس کی ہتک کی ہے۔ڈپٹی نے پوچھا کہ کیا تمہارے بھائی محمد حسین کا کوئی لڑکا ہے۔اس نے کہا کہ ” ہے پوچھا کہ بالغ ہے یا نا بالغ ہے؟ کرم دین نے جواب دیا کہ بالغ ہے۔اس پر ڈپٹی صاحب نے کہا کہ وہ دعوی کر سکتا ہے۔تمہارا دعویٰ نہیں چل سکتا۔واپسی پر دیوی دیال صاحب سب انسپکٹر نے حضور کو بڑی محبت اور احترام سے بڑے بازار شہر سے گزار کر اسٹیشن پر لا کر گاڑی پر سوار کرایا تھا۔بازار میں سے لانے کی غرض یہ تھی کہ تمام لوگ حضور کی زیارت کر لیں۔لوگ کھڑے ہو ہو کر حضور کو دیکھتے تھے۔حضور باعزت طور پر گاڑی میں سوار ہوئے اور واپس قادیان روانہ ہوئے۔1008 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُم المومنین نے ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور شیرینی کا ایک خوان اُسی وقت پیش کیا اور شام کی دعوت کی۔1009 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ شہتیر والا مکان خطرناک ہوتا ہے۔بعض دفعہ شہتیر ٹوٹ جاتا ہے تو ساری چھت یکدم آپڑتی ہے۔یعنی صرف کڑیاں یعنی بالے پڑے ہوئے ہوں۔اور فرمایا ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ایسے حادثہ سے بچایا تھا۔1010 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اس وقت یعنی ۱۹۳۸ء میں میری عمر ۷۴ سال کے قریب ہے۔ہمارا اصل وطن بڑھا نہ ضلع مظفر نگر۔یو پی ہے گو میری زیادہ سکونت باغپت ضلع میرٹھ میں رہی ہے یعنی میں نے اپنی اوائل عمر زیادہ تر اپنے وطن باغپت ضلع