سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 24
سیرت المہدی 24 حصہ چہارم - پر دوستوں نے بتایا کہ ڈوم میراثی ہوتے ہیں۔تحصیل دار نواب خان نے بھی کہا کہ حضور میراثی لوگ ڈوم ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک روز مفتی محمد صادق صاحب نے بھی اپنی خواب سنائی۔خواب مجھے یاد نہیں رہی۔میں اپنی بیوی کے اکثر خواب حضور علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کر کے تعبیر منگوا تارہتا تھا۔1006 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عدالت میں گئے تو بہت ہجوم حضور کے ساتھ اندر چلا گیا۔آخر کھلے میدان میں حضور کی کرسی سرکاری جمعدار نے رکھی۔چار پانچ کرم کے فاصلہ پر مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اپنا وعظ شروع کیا تو محمد دین کمپونڈر نے کہا۔حضور! مولوی ابراہیم نے یہاں آ کر ہی وعظ شروع کر دیا ہے۔اس وقت میں بھی حضور کے پاس تھا تو حضور نے اپنے ہاتھ سے اپنی جیب سے ایک رسالہ ” مواہب الرحمن نکال کر دیا کہ میری یہ کتاب اُسے دے دو۔ابھی اُس نے وعظ شروع ہی کیا تھا کہ ڈپٹی صاحب نے حکم دیا کہ اس کو یہاں سے نکال دو۔اگر وعظ کرنا ہے تو شہر میں جا کر کرے۔سپاہیوں نے اسی وقت اسے کچہری سے باہر نکال دیا۔جب اُس نے جلدی سے کتاب پر نظر ماری تو صفحہ ۲۵ پر نظر پڑی۔جہاں لکھا تھا’کرم دین کذاب فوراً کرم دین کو جا کر دیا کہ دیکھو تم کو یہ لکھا گیا ہے۔اُس نے اپنے وکیل شیخ محمد دین کو دکھایا۔وکیل نے کہا کہ اس کا بھی دعویٰ کر دو۔اُسی وقت مولوی ابراہیم اور کرم دین اور شیخ محمد دین وکیل میاں نظام دین سب حج کی کچہری میں چلے گئے اور اُس کو دکھا کر کہا کہ یہ وہ کتاب ہے اور اب موقعہ ہے۔ہم دعوئی آپ کی عدالت میں کرتے ہیں۔اُس حج نے جواب دیا کہ میرے پاس دعویٰ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ کرم دین بھی سنی مسلمان ہے اور میں بھی سنی مسلمان ہوں۔جب حج مذکور نے یہ جواب دیا وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔بندہ اچانک اُسی وقت اس حج کی کچہری میں ان تینوں کے پیچھے کھڑا یہ کارروائی دیکھ رہا تھا۔ہاں البتہ اس نے ان کو یہ کہا کہ یہ دعویٰ بھی اُسی ڈپٹی کمشنر کے پاس کرو جس کے پاس پہلا دعوی ہے۔ڈپٹی نے خوب دونوں دعووں کو اڑایا اور کرم دین کو کہا کہ تم نے خود اپنے لئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ضرور میں جھوٹا اور کمینہ ہوں۔کیونکہ تعزیرات ہند میں یا سرکاری قانون میں تو یہ جرم نہیں ہے کیونکہ مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ خدا نے الہام سے مجھے یہ کہا ہے۔قانون سے جرم تب ہوتا اگر یہاں