سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 310 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 310

سیرت المہدی 310 حصہ پنجم مغلانیاں آپ کی غیر احمدی رشتہ دار آتیں۔ہمیں خفا ہوتیں سخت ست کہتیں۔ایک دن میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس مکان کا ہم نے مقدمہ کیا ہوا ہے۔دعا کرو کہ ہمیں مل جاوے کیونکہ یہ ہمارا ہی حق ہے۔پھر تمہیں بھی اس میں سے مکان بنادیں گے۔میں بہت دن دعا کرتی رہی پھر جب کپورتھلہ میں جناب والد صاحب مرحوم محمد خاں صاحب افسر بگھی خانہ کو پڑھانے کے لئے گئے ہوئے تھے معہ ہم سب۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کو وہ مکان مل گیا تھا۔1563 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جناب والد صاحب کہیں باہر دورہ تبلیغ کے لئے گئے ہوئے تھے۔پیچھے سے مصلحت کی وجہ سے منتظموں نے لنگر خانہ کا یہ انتظام کیا کہ جو مہمان آویں صرف ان کو تین دن تک کا کھانا ملا کرے۔باقی گھروں کا بند کر دیا۔ہمیں بھی لنگر خانہ سے دونوں وقت روئی آتی تھی۔جب بند ہوگئی تو نہ آئی۔ہم سب بہن بھائی ایک دن رات بھو کے رہے کسی کو نہ بتایا۔دوسرے دن سب کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی کہ مائی تابی ایک مجمع اٹھائے ہوئے آئی۔والدہ صاحبہ نے کہا۔کہاں سے لائی ہے؟ کس نے بھیجا ہے؟ حضرت جی نے دور کا بیاں کھیر کی اور دو پیالے گوشت عمدہ پکا ہوا بھجوایا۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں مرغ کا گوشت تھا۔اور روٹیاں توے کی پکی ہوئیں ہم سب حیران ہوئے کہ حضرت صاحب کو کس نے بتایا پھر میں شام کو برتن لے کر گئی۔برتن نیچے رکھ کر او پرگئی تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ صفیہ کل کیوں نہیں آئی۔میں نے کہا کل ہم کو لنگر سے کھانا نہیں آیا تھا۔اس لئے ہم سب گھر ہی رہے۔آپ نے افسوس والی صورت سے فرمایا کہ کل تم سب بھو کے رہے۔کیا تمہیں لنگر خانہ سے روٹی آتی تھی؟ بہت افسوس فرمایا اور کہا کہ آج جو مجھے کھانا آیا تھا میں نے تمہارے گھر بھیج دیا۔مجھے یہ علم نہ تھا کہ تم کو کل سے کھانا نہیں ملا۔پھر مجھے دس روپے دئے اور فرمایا کہ نیچے کوٹھی میں جتنے دانے گندم کے ہیں گھر لے جاؤ۔اور خرچ کرو۔جب تک حضرت مولوی صاحب نہیں آتے مجھے خرچ کے لئے بتایا کرو۔پھر ایک ماہ میں کئی بار مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا خرچ ختم ہو گیا۔میں کہدیتی نہیں۔اسی ماہ کے اخیر میں ہی جناب والد صاحب مرحوم گھر آگئے۔