سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 303 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 303

سیرت المہدی 303 حصہ پنجم تین روز تک وہ زخم بالکل صاف ہو گیا۔1549 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں۔تو میں نے ان سے پوچھا یہ کیسے پودے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ طاعون کے پودے ہیں۔تو پھر میں نے پوچھا کہ کب ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاڑے کے موسم میں۔تب حضور نے تمام جماعت کو بلا کر ایک بڑھ کے نیچے جس جگہ قادیان کی مشرق کی جانب اب نئی آبادی ہوئی ہے جو بڑھ اب تک کھڑا ہے جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے یہ دیکھا ہے۔اب دنیا میں طاعون کا عذاب آنے والا ہے۔بہت بہت تو بہ کرو، صدقہ کرو اور اپنی اصلاح کرو ہر طرح نصیحت فرمائی اور بہت ڈرایا اور بہت دیر تک نصیحت فرماتے رہے۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ کے بعد طاعون شروع ہوئی۔1550 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب کا ندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا اور اس کی ایک پیشی کے لئے موضع دھار یوال میں جانا پڑا۔گرمی کا موسم تھا اور رمضان کا مہینہ تھا۔بہت دوست ارد گرد سے موضع دھار یوال میں گئے اور بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔وہاں ایک مشہور سردارنی نے جو موضع کھنڈے میں مشہور سرداروں میں سے ہے حضور کی خدمت اقدس میں دعوت کا پیغام بھیجا۔حضور نے دعوت منظور فرمائی۔سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت دی۔بعض دوستوں نے حضور سے روزہ کے متعلق عرض کی۔فرمایا سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔چنانچہ اس وقت سب دوستوں نے روزے چھوڑ دئے اور جب حضور دھاریوال کے پل پر تشریف لے گئے تو بہت لوگوں نے جو حضور کی زیارت کے لئے اردگرد سے آئے ہوئے تھے زیارت کی درخواست کی اس وقت حضور ایک پکی پر کھڑے ہو گئے اور سب لوگوں نے حضور کی زیارت کی۔1551 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بھائی خیر الدین موضع سیکھواں نے اور میں نے مل کر ارادہ کیا کہ قادیان شریف