سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 301
سیرت المہدی 301 حصہ پنجم بتاؤں۔اس طرح کہا کرو کہ باپ کا بچہ گڑ کھانا۔پھر میاں صاحب اسی طرح کہتے تھے۔1545 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میرا بڑا لڑ کا عبدالرحمن دو ماہ کا تھا۔میں اس کو اٹھا کر حضور کے پاس لے گئی۔آپ اس وقت اس صحن میں جواب اُم طاہر صاحبہ کا ہے ٹہل رہے تھے۔میں نے سلام کیا اور لڑکے کے واسطے دعا کے لئے عرض کیا اور بتایا کہ یہ جو دودھ پیتا ہے اس کو پھر منہ سے باہر نکال دیتا ہے۔حضور نے بچہ کے منہ پر اور جسم پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اور فرمایا کہ اس کو ریوند خطائی، بڑی ہرڑ اور سہا گہ تینوں کو لے لو۔سہا گہ کو پھل کرو اور جس وقت بچہ کو دودھ پلاؤ تو پھل کیا ہوا سہا گہ تھوڑا سا منہ میں ڈال دیا کرو اور ریوند خطائی و ہرڑ کو خالص شہد میں ملا کر کھلایا کرو۔“ 1546 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ تو صاحبہ اہلیہ فجا صاحب معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” جب گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا تو حضور علیہ السلام کو وہاں تقریباً سات ماہ رہنا پڑا تھا۔بہت سے لوگ جماعت کے ساتھ ہوتے تھے۔وہاں گائے کا گوشت دیگوں میں پکا کرتا تھا۔میں یہ گوشت نہیں کھایا کرتی تھی بلکہ روکھی روٹی کھا لیتی تھی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ روکھی روٹی کھانے سے کہیں بیمار نہ ہو جائے۔صفیہ کی اماں سے کہدو کہ ایک چھوٹی پتیلی میں چند بوٹیاں اچھی طرح سے پکا کر اس کو کھلایا کرو تا کہ اس کو گائے کا گوشت کھانے کی عادت ہو جائے۔چنانچہ ایک دن حضرت ام المومنین صاحبہ بڑا عمدہ بھنا ہوا گوشت اور دو روٹیاں لے کر آئیں اور ایک روٹی اور کچھ سالن اس میں سے آپ نے کھایا اور دوسری روٹی اور چند بوٹیاں مجھے دے کے کہا کہ ”کھاؤ میں نے کھانا شروع کیا تو کھاتی گئی ،مزیدار تھا۔اس دن سے مجھے گائے کے گوشت سے جو نفرت تھی وہ جاتی رہی۔اب کھاتی رہتی ہوں۔“ 1547 بسم الله الرحمن الرحیم محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین