سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 298 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 298

سیرت المہدی 298 حصہ پنجم عرض کی کہ ولی کی دعا ہمیشہ خدا کی جناب میں منظور ہوتی ہے۔اگر آپ مہدی اور ولی ہو تو خدا کی بارگاہ میں دعا مانگو کہ میری ہرسہ بیویوں سے جس سے میں چاہوں اس کے گھر فرزندار جمند، نیک بخت ، مومن صاحب اقبال پیدا ہو۔چنانچہ میرے خاوند کو حضور علیہ السلام نے جواب دیا اور کارڈ تحریر کیا کہ ”مولیٰ کے حضور دعا کی گئی۔تمہارے گھر میں فرزندار جمند ، مومن صاحب اقبال اس بیوی کو ہوگا جس کو تم چاہتے ہو بشر طیکہ تم زکریا علیہ السلام کی طرح تو بہ کرو۔چنانچہ میرے خاوند نے پوری پوری تو بہ کی اور اللہ تعالیٰ نے فرزندار جمند ۱۹۰۰ء میں عطا فرمایا۔اُس وقت میرا خاوند موضع و نجواں تحصیل بٹالہ کا پٹواری مال تھا۔چنانچہ اس وقت لخت جگر عہدہ اوور سیر پر ملازم ہے۔تب سے ہمارا سب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پکا ایمان رکھتا ہے۔اس کے بعد میرے خاوند شیخ عطا محمد صاحب کو خواب آیا کہ میں ایک میٹھا خربوزہ کھا رہا ہوں۔جب میں نے اس کی ایک قاش اپنے لڑ کے عبد الحق کو دی تو خشک ہو گئی ہے۔تعبیر خواب پر حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ” تمہارے گھر میں اسی بیوی کو ایک اور لڑکا ہوگا مگر وہ زندہ نہیں رہے گا۔“ چنانچہ حسب فرمودہ حضرت صاحب لڑکا پیدا ہوا اور گیارہ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا اس کے بعد میرے ہاں کوئی لڑکا یالڑ کی پیدا نہیں ہوئی۔“ 1539 بسم الله الرحمن الرحیم محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتاسی نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضور کچھ لکھ رہے تھے۔میں کھانا لے کر گئی اور حضور کے پاس رکھ کر لوٹ آئی۔کافی دیر کے بعد جب حضور کی نظر کہیں برتنوں پر پڑی اور ان کو خالی پایا تو مجھے آواز دی کہ آکر برتن لے جاؤ اور پوچھا کہ کیا میں نے کھانا کھالیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو کھانا چھوڑ گئی تھی مجھے معلوم نہیں کہ حضور نے کھایا ہے یا نہیں ؟ حضور نے فرمایا کہ شاید کھا لیا ہو گا؟ لیکن معلوم یہ ہوتا تھا کہ حضور علیہ السلام لکھنے میں ایسی محویت کے عالم میں رہے کہ حضور کو یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ میں کھانا رکھ گئی ہوں اور نہ ہی بھوک محسوس ہوئی کہ اگر نہ کھایا ہوتا تو فرماتے کہ نہیں کھایا۔“ 1540 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ سیدہ زینب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا