سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 294
سیرت المہدی 294 حصہ پنجم السلام نے خود رکھ لی اور باقی رومال حضور نے اٹھایا اور فرمایا کہ بیوی جی کے پاس لے جاؤ اگر چہ آج بھی اس بات کو یاد کر کے اپنی حرکت پر ہنسی آتی ہے کہ پہلے پھل حضرت اماں جان کے پاس رکھا اور پھر اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے گئی۔مگر اس بات کو یاد کر کے شکریہ سے دل بھر جاتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے دست مبارک سے ایک قاش لینی نصیب ہوئی۔فالحمد للہ علی ذلک 1529 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مرزا ارشد بیگ کی والدہ الفت بیگم کے متعلق الہام ہوا کہ وہ فوت ہو جائے گی۔جو وقت فوت ہونے کا بتایا تھا اس دن کا کچھ حصہ ابھی باقی تھا کہ لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ہے۔اور ڈھول بجا کر بھی شور مچایا مگر جب اذان شروع ہوئی تو ساتھ ہی گھر میں سے چیخوں کی آواز آنے لگ گئی۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ الفت بیگم ہی فوت ہوئی ہیں اس پر مخالفین بہت نادم ہوئے۔“ 1530 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ سلطان بی بی صاحبہ اہلیہ مستری خیر دین صاحب قادرآباد نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضور سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔میری ساس ساتھ چلی گئی پھر واپس گھر تک چھوڑنے گئی وہ ہمیشہ ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ایک دن ہم بیعت کرنے کے لئے گئے۔ہم تین عورتیں تھیں۔ہماری ساس ہم کو ساتھ لے کر گئی۔میری ساس کچھ بتاشے لے کر گئی تھی۔حضور پوچھنے لگے کہ ” تمہاری بہو کون سی ہے؟ اور کس کی بیٹی ہے؟ میری ساس نے بتایا کہ میری بہو یہ ہے اور یہ میری بہن کی بیٹی ہے۔اس کے بعد بیعت ہوئی اور دعا کی گئی۔وہ بتاشے جو ہم لے گئے تھے (ان میں سے حضور نے ) کچھ رکھ لئے اور کچھ مجھے دیئے۔1531 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام جب