سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 23 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 23

سیرت المہدی 23 23 حصہ چہارم سے بیان کیا کہ جس دن عدالت میں مقدمہ کی پیشی تھی۔صبح نو بجے تک بیعت ختم نہ ہوئی تھی پھر کچہری کے لئے تیاری شروع ہوئی ورنہ لوگ تو بس نہ کرتے تھے۔رات کو عورتوں کی بیعت کی باری آیا کرتی تھی۔اُن کے خاوند دروازوں پر کھڑے ہوتے تھے۔حضور اقدس کرسی پر اونچی جگہ تشریف رکھے ہوتے ، بلند آواز سے اپنی جگہ پر ہی اللہ اور اس کے رسول کے احکام حسب ضرورت عورتوں کو سناتے تھے اور حضرت صاحب نے میاں بیوی کے حقوق اور تعلقات کو خوب واضح طور پر بیان کیا تھا۔حضور عورتوں کی بیعت لیتے وقت ہاتھ یا کپڑا وغیرہ نہ پکڑتے تھے بلکہ آپ اونچی جگہ پر بیٹھ کر اپنی تعلیم سنادیتے تھے اور پھر لمبی دعا فرما کے اپنے کمرہ میں چلے جاتے تھے۔اُن دنوں سخت سردی پڑتی تھی۔جس دن پیشی تھی اُسی رات مجھ کو خواب آیا اور وہ میں نے حضرت کو سنا دیا تھا کہ دہکتے ہوئے انگاروں سے ایک چولہا بھرا ہوا ہے۔اُس پر حضور کی آرام کرسی رکھی گئی ہے، اُس پر آپ بیٹھے ہیں۔آگ کی بھاپ شعلے مار مار کر تمام بدن سے نکلتی جاتی ہے۔اسی طرح کپڑوں اور بالوں سے اور ہم لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ دھواں تو نہیں ہے بلکہ بھاپ ہے۔بالوں میں سے پانی کے قطرے نیچے گر رہے ہیں۔تو میں کہہ رہا ہوں کہ سبحان اللہ! ابراہیم علیہ السلام والی پوری مثال ہے۔اس موقعہ پر قُلْنَا يَا نَارُ كُونِی بَرْدَا وَّ سَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيم (الانبیاء : ۷۰) کی مثال صادق آرہی ہے۔جب میں نے یہ خواب حضور کو سنائی تو حضور اقدس علیہ السلام نے ہنس کو فرمایا کہ دشمن نے آگ بھڑکائی مگر اللہ نے ٹھنڈی کر دی ہے۔تمام دشمنوں نے زور لگایا۔ایک طرف تمام مخالف تھے اور ایک طرف خدا کا مرسل تھا۔ایک طرف حکومت کے لوگ اور بڑے بڑے رئیس مجسٹریٹ اور وکیل اور چھوٹے چھوٹے ملازم تھے۔یہ سب لوگ کرم دین پر خوش تھے کہ اُس نے دعوی کیا ہے مگر خدا نے اُن کو نا کام کر دیا۔1005 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ مقدمہ کی تاریخ سے ایک ماہ قبل میری بیوی کو خواب آئی تھی کہ حضرت سلمان فارسی جن کی قبر 9 گز لمبی دریائے جہلم کے کنارے پر ہے۔وہ چوک میں کھڑے ہو کر بآواز بلند یہ کہتے ہیں۔سنولوگو! یہ جودو فریق آپس میں جھگڑا کر رہے ہیں۔ان میں سے ایک سید ہے جو مرزا صاحب ہیں اور دوسرا مولوی جو ہے وہ ڈوم ہے۔جب حضور کو یہ خواب سنائی گئی۔تو حضور نے ” ہیں“ کہہ کر فرمایا کہ ڈوم کیسے ہوتے ہیں۔اس