سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 288
سیرت المہدی 288 حصہ پنجم 1516 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ سیدہ زینب بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ والدہ صاحبہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضور علیہ السلام نے وضو کرنے کے بعد مجھے فرمایا کہ جاؤ اندر سے میری ٹوپی لے آؤ۔جب میں گئی تو دیکھتی کیا ہوں کہ ایک معمولی سی ٹوپی پڑی ہوئی ہے جس کو دیکھ کر میں واپس آگئی اور عرض کی کہ حضور! وہاں نہیں ہے۔اس طرح تین مرتبہ اندر جا کر آتی رہی مگر مجھے گمان نہ ہوا کہ یہ پرانی ٹوپی حضور کی ہوگی۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب جو وہاں تھے انہوں نے فرمایا کہ ”میں لاتا ہوں۔“ جب وہ وہی ٹوپی اٹھا کر لائے جو میں نے دیکھی تھی تو میں حیران رہ گئی کہ اللہ اللہ کیسی سادگی ہے“ 1517 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارا تمام خرچ روٹی کپڑے کا حضوڑ ہی دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ حضوڑ نے ایک کپڑے کی واسکٹ اپنے اور ایک حافظ حامد علی صاحب کے واسطے بنوائی تھی۔سردی کا موسم تھا۔میں نے حافظ صاحب کو کہا کہ میں صبح جب نماز تہجد کے لئے اٹھتی ہوں اور سحری پکاتی ہوں تو مجھے سردی لگتی ہے۔حافظ صاحب نے گرم صدری جو حضور نے ان کو بنا دی تھی مجھے دے دی۔جب میں اس کو پہن کر گئی اور انگیٹھی میں آگ جلا رہی تھی تو حضور نے پوچھا کہ رسول بی بی! کیا یہ میری واسکٹ چرا لی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور سب کچھ آپ کا ہی ہے۔آپ کا ہی کھاتے ہیں ، آپ کا ہی پہنتے ہیں۔حضور اس پر خوب ہنسے اور فرمایا کہ ”خوب کھاؤ پیو۔“ 1518﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ حنو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیمی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا تھا تو حضور اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر دروازہ میں کھڑے تھے۔اوپر سے ایک اینٹ گری۔میں نے حضور سے کہا کہ حضور! باہر آجائیں۔آپ نے فرمایا کہ سب لڑکیاں کھڑی ہیں کسی کو یہ خیال نہیں آیا۔یہ بہت ہشیار ہے۔اماں جان نے زینب سے جو اب مصری کی بیوی ہے کہا کہ ”مبارکہ بیگم اندرسوئی ہوئی ہیں ان کو اٹھالا ؤ “ زینب