سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 287 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 287

سیرت المہدی 287 حصہ پنجم بھی تو قادیان کے اندر آ جائے گی۔اس وقت تم کو یہاں کسی کے گھر آنا پڑا تو اس وقت کیا کروگی ؟“ 1514 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صو با ارائیں منگل نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبه والده مکرمه خلیفه صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور ایک دفعہ منگل کی طرف سیر کو تشریف لائے۔میں نے جو آتے دیکھا تو ایک کٹورے میں گرم دودھ اور ایک گڑ کی روڑی لے کر آئی۔حضور نے فرمایا کہ اس لڑکی نے بڑی مشقت کی ہے کہ ایک ہاتھ میں گرم دودھ اور دوسرے میں گڑ لائی ہے۔حضور میرے گھر کے دروازے پر جواب سڑک ہے، کھڑے ہو گئے اور جو اصحاب ساتھ تھے وہ بھی ٹھہر گئے۔پھر اس دودھ میں سے خود بھی ایک دو گھونٹ نوش فرمائے اور باقی تمام ہمراہیوں نے تھوڑا تھوڑا پیا۔حکیم مولوی غلام محمد صاحب بھی تھے اسے کہا گڑ کی ڈھیلی توڑو تو وہ تو ڑ نہ سکے۔تو حضور نے خود ہتھیلیوں سے دبا کر توڑی اور ان کو کہا سب کو تھوڑا تھوڑا گر بانٹ دو۔خود بھی چکھا تھا۔1515 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد بی بی صاحبہ بنت حاجی عبد اللہ صاحب ارائیں منگل نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں تیرہ یا چودہ سال کی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں آیا کرتی تھی۔ایک بار میں اور میرا باپ گنے کا رس لے کر آئے تھے۔میرا باپ ڈیوڑھی میں اس کا گھڑا لے کر کھڑا رہا اور میں اپنارس کا برتن لے کر اندرگئی۔اماں جان بیٹھی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہل رہے تھے۔حضرت اماں جان نے حضور سے دریافت کیا کہ آپ رس پیئں گے؟ دودھ ملا کر دیں؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں۔حضرت اماں جان نے رس چھان کر اس میں دودھ ملایا۔پھر حضرت مسیح موعود نے گلاس لے کر پیا۔میں کھڑی رہی کہ میں آپ کو دیکھوں۔حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ” آج صبح سے رس پینے کو دل چاہتا تھا۔دوسرا برتن رس کا بھی میں اپنے باپ سے لے آئی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف لائے تو میرا باپ پیچھے مڑنے لگا تو گر گیا اور چوٹ آئی۔حضرت نے دیکھا اور فرمایا کہ ” پیچ گیا۔میرے باپ نے بتایا کہ جیسے ہی حضرت نے فرمایا کہ بچ گیا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ چوٹ ہی نہیں لگی۔