سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 22

سیرت المہدی 22 22 حصہ چہارم ہیں۔میں اس وقت بغرض علاج لاہور ( یا امرتسر اس وقت خاکسار کو صحیح یاد نہیں رہا کہ کس شہر کا نام لیا تھا) گیا ہوا تھا۔وہیں یہ بات مجھے معلوم ہوئی تھی۔جس پر میں نے ان کی خدمت میں ( حاضر ہو کر نہیں بلکہ تحریر آیا کسی صاحب کی زبانی جس کی تفصیل اب خاکسار کو یاد نہیں رہی ) اپنی صحت یابی کے لئے دعا کے واسطے عرض کیا تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت بخشی۔یہ واقعہ بچپن میں میں نے غالباً متعدد دفعہ اپنے والد صاحب ( مولوی محمد بخش صاحب) سے سنا تھا۔اس کے بعد وہ کتاب میرے والد صاحب نے مجھے واپس دے دی اور وہ مدت تک میری پاس رہی۔جب میں بڑا ہوا تو اس کے نام وغیرہ کی شناخت ہوئی۔یہ کتاب سرمہ چشم آری تھی جو ۶ ۱۸۸ء کی تصنیف ہے۔1003 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ میں جہلم تشریف لائے تو سردار ہری سنگھ کی درخواست پر آپ اُن کی کوٹھی میں مقیم ہوئے۔کھانا وغیرہ کا انتظام جماعت کے ذمہ تھا۔کوٹھی نہایت خوبصورت اور سجائی گئی تھی۔باورچی نے کارکنوں سے حضور کے لئے ایک چوزہ مرغ طلب کیا تو وہ لوگ حیران ہوئے کہ اب کہاں سے ملے گا۔مجھے علم تھا کہ حضور کچھ عرصہ سے چوزہ مرغ بطور دوائی استعمال فرماتے ہیں اس لئے میں نے چار چوزے اپنے پاس اسی غرض سے رکھے ہوئے تھے۔میں فوڑا گیا اور چاروں لے آیا اور وہ چوزے تین دن تک کام آگئے۔چونکہ میں نے تین دن کی رخصت لی ہوئی تھی اس لئے میں دن رات حضور کے پاس رہتا اور حضور کے جسم مبارک کود با تا تھا۔میں ۹۴ ء سے حضور کا عاشق تھا۔رات بھر حضور کے بدن کو دبا تا۔جب حضور کروٹ بدلتے تو کھانسی کی تکلیف کے وقت منہ مبارک سے معصوم بچوں کی سی آواز نکلتی ”اللہ۔حضور فرماتے تھے کہ خشک کھانسی بھی ایک وبا کی طرح ہے۔پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی۔حمام میں گرم اور سرد دونوں پانی موجود تھے۔آپ لوٹے میں دونوں کو ملا کر استعمال فرماتے۔میرے دباتے ہوئے جب حضور انور کروٹ لیتے تو فرماتے کہ آپ بس کیجئے۔مگر مجھے ان الفاظ کے سننے سے از حد خوشی ہوتی اور میں حضور کو دباتا چلا جاتا تھا۔1004 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ