سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 21
سیرت المہدی 21 حصہ چہارم تصانیف ہے اور یہ مولوی احمد رضا خاں بریلوی کے پیر تھے۔لیکن جب میں نے بعد میں اُن مولوی صاحب کے ایک دوست سے جس نے یہ روایت بیان کی تھی یہ کہا کہ شہادت لکھ دو تو اُس نے لکھنے سے انکار کر دیا۔مگر زبانی مانتا تھا کہ اُن مولوی صاحب نے ایسا کہا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ستاروں کا گرنا بہت سے نبیوں کے لئے بطور علامت واقع ہو چکا ہے اور حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ یہ جو حضور کی بعثت کے وقت غیر معمولی طور پر ستارے گرتے نظر آئے۔یہ حضور کے لئے بطور علامت تھا اور اس سے مراد یہ تھی کہ اب گو یا کواکب یعنی علماء کے گرنے کا وقت آ گیا ہے جس کے بعد سورج کا طلوع ہوگا۔1002 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے مجھے سے بیان کیا کہ جب میں قریباً آٹھ دس سال کی عمر کا تھا۔(اس وقت میری عمر پچپن سال کی ہے ) ایک دفعہ میرے حقیقی چچا مرحوم حافظ حکیم خدا بخش صاحب احمدی جو اوائل سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مصدق تھے اور بیعت میں صرف اس خیال سے دیر کرتے چلے گئے کہ میں بہت ہی گنہگار اور آلودہ دامن ہوں۔میرا وجود سلسلہ حقہ کے لئے ایک بدنما داغ ہوگا اور اس کی بدنامی کا باعث ہوگا اور آخر حضور کی رحلت کے بعد اوائل ۱۹۰۹ء میں انہوں نے تحریری طور پر حضرت خلیفہ اسی اوّل کے ہاتھ پر بیعت کی کسی لمبے سفر سے واپس آئے۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں اُن سے ملنے کے لئے ان کے پاس گیا۔انہوں نے مجھے ایک کتاب دی۔جسے لے کر میں بہت خوش ہوا۔اس کتاب کے مجھے دینے سے اُن کا مقصد یہ تھا کہ میرے والد صاحب اسے دیکھ لیں۔دوسرے روز میں شوق سے وہ کتاب ہاتھ میں لئے مسجد کی طرف قرآن کریم کا سبق پڑھنے کے لئے جا رہا تھا۔اتفاق سے میرے والد صاحب راستہ میں ہی ایک چھوٹی سی مجلس میں بیٹھے تھے۔میرے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھ کر انہوں نے لے لی اور دیکھنے لگے۔کسی نے پوچھا کہ یہ کیا کتاب ہے۔میرے والد صاحب نے کہا کہ یہ ایک بزرگ ولی اللہ کی کتاب ہے۔جن کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں اور ساتھ ہی بیان کیا کہ میں ایک دفعہ فساد خون کے عارضہ سے دیر تک بیمار رہا تھا۔ان ایام میں مجھے ان بزرگ ولی اللہ کے متعلق اطلاع ملی اور یہ بھی کہ ان کی دعائیں بہت قبول ہوتی