سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 274 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 274

سیرت المہدی 274 حصہ پنجم عبادات بجالانے کے علاوہ اطمینان قلب حاصل ہونے کی تمنا تھی۔میں اپنے اس شوق میں ہر عالم اور بزرگ سے جس سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے یا لوگوں کی زبانی تعریف سن کر پتہ لگتا۔میں اس سے ملتا اور اپنی آرزو کا اس سے اظہار کر کے ہمنت راہ نمائی کی خواہش کرتا اور جو در ولیش یا بزرگ کوئی وظیفہ یا چلہ مجھے بتا تا۔میں اس کے موافق عمل کرتا لیکن میرا مطلب حل نہ ہوتا تو پھر تلاش میں لگ جاتا ، اس سلسلہ میں تلاش میں ایک درویش نے مجھ کو ایک مقام پر ایک خانقاہ کا پتہ بتا کر کہا کہ ایسے مطالب اس بزرگ کی خانقاہ پر چلہ کرنے سے اکثر لوگوں کو حاصل ہوئے ہیں۔درویش صاحب نے کہا کہ میں تو اپنی دھن کا پکا تھا ہی اس سے اچھی طرح پتا پختہ طور پر لے کر سامان سفر کر اس خانقاہ پر جا پہنچا اور حسب ہدایت اس درویش کے وہاں چلہ شروع کر دیا ابھی اس چلہ کو نصف تک نہیں کیا تھا کہ ایک رات رویاء میں ایک بزرگ نظر آئے ایک صاحب اور ان کے برابر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اول الذکر بزرگ اس وقت میرے خیال میں وہ صاحب خانقاہ بزرگ تھے جس پر میں چلہ میں مصروف تھا۔بزرگ موصوف نے میری طرف مخاطب ہو کر فر مایا کہ یہاں ناحق اپنا وقت ضائع نہ کرو اور اپنے برابر کھڑے دوسرے صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اگر تمہاری مراد پوری ہو سکتی ہے تو ان سے فیض حاصل کرو۔“ میں نے ان دوسرے صاحب کی طرف بغور دیکھا اور ہنوز یہ دریافت کرنے نہ پایا تھا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ کیا نام ہے؟ اور کہاں رہتے ہیں؟ کہ کسی نے مجھ کو جگا دیا یا خود آنکھ کھل گئی۔وو 1493 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے بیان کیا کہ درویش مذکور نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ایام چلہ پورا کرنے تک وہاں ٹھہرا اور چلہ پورا ہونے پر بھی جب کوئی انکشاف مزید نہ ہوا تو واپس ہوکر اس روز سے اپنا یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ گھر بار سے قطع تعلق کر کے ہر قصبہ و شہر ودیار میں پڑا پھرتا ہوں اور جس جگہ کسی بزرگ کا پتہ لگتا ہے اس کو جا کر دیکھ لیتا ہوں اور جب وہ میرے مطلوبہ حلیہ سے مطابقت نہیں رکھتا تو واپس ہو کر کسی اور طرف کو چلا جاتا ہوں۔دس بارہ برس سے نہ مجھ کو گھر والوں کی خبر ہے نہ ان کو میری۔سارا ہندوستان چھان کر اب پنجاب میں آیا ہوں۔یہاں امرتسر میں پانچ سات اشخاص کا لوگوں نے مجھ کو پستہ دیا