سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 270
سیرت المہدی 270 حصہ پنجم اجازت نہ ملی تو ہم مباحثہ نہیں کریں گے پھر جو دل چاہے قیاس کر لینا۔تھوڑی دیر کے بعد بھائی صاحب مرحوم ہر سیاں پہنچ گئے اور کہا کہ حضور علیہ السلام نے اجازت نہیں دی۔جب مخالفین کو علم ہو گیا کہ مباحثہ احمدیوں کی طرف سے نہیں ہو گا تب ان میں طوفان بدتمیزی بلند ہوا اور جو کچھ ان سے ہوسکتا تھا بکواس کیا۔تمسخر و استہزاء کی کوئی حد نہ رہی۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی خوشی سے شادیانے گاتے تھے اور ہم خاموش تھے۔فریق مخالف بظاہر فتح و کامیابی کی حالت میں اور ہم ناکامی اور شکست کی حالت میں موضع ہرسیاں سے نکلے۔لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھا کہ جمعہ کے روز ہرسیاں مذکور تحصیل بٹالہ سے ایک جماعت قادیان پہنچ گئی کہ ہم بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ہم حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو بظاہر ہماری شکست میں کون سی دلیل مل گئی ؟ تو انہوں نے جوابا کہا کہ آپ لوگوں کے چہروں سے ہمیں صداقت نظر آئی اور ان کے چہروں سے کذب اور بیہودہ پن کے نشان نظر آئے یہی بات ہم کو قادیان کھینچ لائی۔الحمد لله علی ذالک۔* 1488 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان مجھ کیا کہ جن دنوں حضور علیہ السلام نے رسالہ آریہ دھرم (جس میں آریوں کے مسئلہ نیوگ کا ذکر ہے ) لکھنے کا ارادہ فرمایا تو اس سے پہلے ایک روز فرمایا کہ آریہ ہمارے ہمسائے ہیں۔اگر ہم جیسا کہ دیا نند نے نیوگ کی تشریح ستیارتھ پر کاش میں لکھی ہے نقل کر دیں تو شاید آریہ کہیں کہ ہم تو مانتے ہی نہیں ، خواہ مخواہ ہماری دل آزاری کی گئی ہے۔بہتر ہے کہ آریان قادیان سے دریافت کر لیا جائے چنانچہ منتخب آریہ ملا وامل اور شرمیت۔سومراج کشن سنگھ کیسونو الہ آریہ وغیرہ کو مسجد مبارک میں بلایا گیا اور ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا جس طرح پنڈت دیانند نے نیوگ کا مسئلہ بیان کیا ہے درست ہے؟ انہوں نے کہا کہ نیوگ کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ طلاق اور نکاح ثانی جب ان کو سمجھایا گیا کہ طلاق کے بعد عورت کے ساتھ مرد کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔اس لئے اس کو حق ہوتا ہے کہ نکاح ثانی کرلے وے مگر نیوگ میں تو عورت اپنے خاوند کے گھر رہتی ہوئی اس کی کہلاتی ہوئی دوسرے کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہے اور اولاد حاصل کر کے خاوند کو دیتی ہے۔نیز نیوگ بحالت نہ اولاد ہونے کے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اولا د تو ہوتی ہے مگر لڑکیاں ہوتی ہیں لڑکا نہیں ہوتا اس لئے