سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 266
سیرت المہدی 266 حصہ پنجم بہادر صاحب ڈپٹی کمشنر ڈگلس گورداسپور نے فیصلہ کرتے وقت حضور علیہ السلام کو مبارک باد کہہ کر بری کیا تھا اور یہ بھی دریافت کیا تھا کہ ” کیا آپ کلارک وغیرہ پر ازالہ حیثیت کا استغاثہ کریں گے؟“ حضور نے کہا تھا کہ میں دنیاوی حکومتوں کے آگے استغاثہ کرنا نہیں چاہتا۔میری فریا د اپنے اللہ تعالیٰ کے آگے ہے۔اس فقرہ کا اس پر اچھا تاثر ہوا تھا۔احمدیوں کو اس مقدمہ میں عزت کے ساتھ بریت کی بڑی خوشی تھی۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے (بطالوی) عیسائیوں کی تائید میں شہادت دی تھی۔بریت پر اس کو بھاری ذلت پہنچ چکی تھی۔عبد اللہ آتھم عیسائی بھی میعاد پیشگوئی میں مرعوب ہو کر بڑ بڑا تا رہا تھا کہ ”مجھ پر سانپ چھوڑے گئے ہیں اور تلواروں والے حملہ آور ہوئے وغیرہ۔مولوی محمد حسین نے بھی آٹھ کروڑ مسلمانان ہندوستان کا باوجود نمائندہ ہونے کے ایک چھری خرید لی جس کو جیب میں رکھتا تھا۔ایک روز شیخ محمد بخش سب انسپکٹر تھانہ بٹالہ کے پاس یہ ذکر کر دیا اور ان کو چھری دکھلائی۔سب انسپکٹر نے نقض امن کی رپورٹ کر دی اور ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے فریقین کو طلب کر لیا۔ادھر سب انسپکٹر نے جوشِ سب انسپکٹری میں کہدیا کہ آگے ہی مرزا کلارک والے مقدمہ سے بچ گیا تھا۔اب بچا تو جانیں گے۔“ اس طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح موعود کو بریت کی خبر دے دی کہ ” يَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَيُؤْثِقُ “ کہ ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور روکا جائے گا۔غرض اس مقدمہ میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر دورہ پر تھے ، بمقام کارخانہ دھار یوال پیشی تھی اور رمضان کا مہینہ تھا۔تاریخ سے پہلے خیال تھا کہ کارخانہ دھار یوال کے قریب کسی جگہ ڈیرہ لگایا جائے تا کہ پیشی کے وقت تکلیف نہ ہو۔( قادیان سے آٹھ میل سفر تھا ) پہلے موضع لیل میں کوشش کی گئی لیکن افسوس کہ مسلمانان لیل نے انکار کر دیا۔بعدش موضع کھونڈا تجویز ہوگئی اور رانی ایشر کو ر صاحبہ جو موضع کھونڈا کی رئیسہ تھی اس نے حضرت اقدس کی تشریف آوری پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے مصاحبوں کو حضور علیہ السلام کے استقبال کے لئے آگے بھیجا اور اپنا عالی شان مکان صاف کرا کر رہائش کے لئے دے دیا اور اپنے مصاحبوں کے ذریعہ نذرانہ پیش کیا اور کہلا بھیجا کہ مجھے حضور کی آنے کی اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ سردار جیمیل سنگھ صاحب سر گباش آگئے ہیں ( سردار جیمل سنگھ صاحب رانی موصوفہ کے خسر تھے ) اس رات کو رانی صاحبہ موصوفہ نے حضور علیہ السلام کو مع خدام پر تکلف