سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 265
سیرت المہدی 265 حصہ پنجم ہم کو کسی نے نہیں روکا۔حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ” جہاں سے تم آئی ہو وہاں تو طاعون نہیں تھا ؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی جگہ خالی نہیں رہے گی سب جگہ طاعون پڑ جائے گی۔1480 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہ رمضان کا روزہ خود چاند دیکھ کر تو نہیں بعض غیر احمدیوں کی شہادت پر روزہ رکھ لیا اور اسی دن (ہم ) قادیان قریباً ظہر کے وقت پہنچے اور یہ ذکر کیا کہ ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے اور حضور علیہ السلام بھی مسجد میں تشریف لے آئے۔اسی وقت احادیث کی کتابیں مسجد میں ہی منگوائی گئیں اور بڑی توجہ سے غور ہونا شروع ہو گیا کیونکہ قادیان میں اس روز روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔اسی دوران میں ہم سے سوال ہوا کہ ” کیا چاند تم نے خود دیکھ کر روزہ رکھا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ ” بعض غیر احمدیوں نے دیکھا تھا۔ہمارے اس فقرے کے کہنے پر کہ چاند غیر احمدیوں نے دیکھا تھا“ کتاب کو تہ کر دیا اور فرمایا کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ تم نے خود چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے اس لئے تحقیقات شروع کی تھی۔اس کے بعد دیر تک ہنستے رہے۔“ 1481 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطه لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے والد ماسٹر ظہیر الدین صاحب بیمار ہو گئے تو میرے خاوند ان کو قادیان میں لے آئے۔حضور علیہ السلام ان دنوں دہلی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔جب میرے والد صاحب کی بیماری زیادہ بڑھ گئی تو ان کے رشتہ داران کو لے گئے۔کہتے تھے کہ کہیں اپنی لڑکی کے گھر میں ہی فوت نہ ہو جائیں۔وہ اسی بیماری سے فوت ہو گئے تھے۔جب حضور علیہ السلام دہلی سے واپس آئے تو میں سلام کے واسطے گئی۔حضور میری آواز سن کر کمرے سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ برکت! تیرے والد کے فوت ہونے کا افسوس ہے۔میں رو پڑی۔حضور نے فرمایا کہ ”رونہیں۔ہر ایک نے فوت ہونا ہے۔تسلی رکھنی چاہئے۔جب سے حضور علیہ السلام نے ایسا فرمایا تھا میرا رونا اور غم کرنا بند ہو گیا تھا۔1482 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں مقدمات شروع ہوئے تھے اور عیسائی کلارک والے مقدمہ کا فیصلہ ہوا تھا اور پیلاطوس