سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 20
سیرت المہدی 20 20 حصہ چہارم یقین ہو گیا کہ انشاء اللہ افر نہیں رہے گا اور یہی وہ سانپ ہے جس کی پہلے وہ حالت تھی کہ دیکھنے سے خوف معلوم ہوتا تھا اور اب اس نوبت کو پہنچ گیا ہے۔بالاخر افسر کی درخواست راجہ صاحب کے سامنے پیش ہوئی۔راجہ صاحب نے وہی حکم لکھایا جو ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا تھا کہ افسر کو لکھ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہوگا۔مجھ کو کما بلایا گیا اور حاکم کے سپر د کیا گیا۔حضرت مسیح موعود کی دعا کا یہ اثر دیکھنے کے قابل ہے کہ وہ افسر راجہ صاحب کا ہم نشین تھا۔اور راجہ صاحب کو یہ بھی علم نہ تھا کہ فیاض علی ہمارا املا زم ہے یا کہ نہیں۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد افسر اپنے عہدہ سے علیحدہ کر دیا گیا اور میں اسی جگہ قائم رہا۔1000 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول میں یہ ایک خاص بات تھی کہ معترض اور مخالف کو ایک یا دو جملوں میں بالکل ساکت کر دیتے تھے اور اکثر اوقات الزامی جواب دیتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی اعتراض کرتا تو آپ ہمیشہ تفصیلی اور تحقیقی جواب دیا کرتے تھے اور کئی کئی پہلوؤں سے اس مسئلہ کو صاف کیا کرتے تھے۔یہ مطلب نہ ہوتا تھا کہ معترض ساکت ہو جائے بلکہ یہ کہ کسی طرح حق اس کے ذہن نشین ہو جائے۔1001 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب رام پوری حال قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۸۴ء میں جب کہ میں سکول میں پڑھتا تھا۔ایک رات کو تاروں کے ٹوٹنے کا غیر معمولی نظارہ دیکھنے میں آیا، رات کے ایک لمبے حصہ میں تارے ٹوٹتے رہے اور اس کثرت سے ٹوٹے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ایک حصہ تاروں کا ٹوٹ کر ایک طرف جاتا اور دوسرا دوسری طرف۔اور ایسا نظر آتا کہ گویا فضا میں تاروں کی ایک جنگ جاری ہے۔یہ سلسلہ ابجے شب سے لے کرہ بجے شب تک جاری رہا۔میں نے اس واقعہ کا ذکر ایک مجلس میں غالباً ۱۹۱۰ء میں کیا تھا تو ایک بہت شریف اور عابد وزاہد معمر انسان نے کہا کہ مجھے بھی وہ رات یاد ہے۔میرے پیر و مرشد حضرت قبلہ علامہ مولوی ارشاد حسین صاحب نوراللہ مرقدہ نے یہ عالم دیکھ کر فرمایا تھا کہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام ہو گیا ہے۔یہ اسی کی علامت ہے۔مولوی ارشاد حسین صاحب زبرست علماء میں سے تھے۔انصار الحق وغیرہ آپ کی مشہور