سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 261
سیرت المہدی 261 حصہ پنجم اپنی والدہ سے کہو۔مردوں سے نہ بیان کیا کرو۔اس پر مجھے بعد میں شرمساری ہوئی۔1470 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اُم المومنین اور سب نے مل کر آم کھائے صحن میں چھلکوں اور گٹھلیوں کے دو تین ڈھیر لگ گئے جن پر بہت سی مکھیاں آگئیں۔اس وقت میں بھی وہاں بیٹھی تھی۔کچھ خادمات بھی موجود تھیں مگر حضرت اقدس نے خود ایک لوٹے میں فینائل ڈال کر سب صحن میں چھلکوں کے ڈھیروں پر اپنے ہاتھ سے ڈالی۔1471 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان خیر کیا کہ (حضرت مسیح موعود نے۔ناقل ) ایک دفعہ فرمایا کہ دعا نماز میں کرنی چاہئے رکوع میں ،سجدہ میں ، بعد تسبیحات مسنونہ اپنی زبان میں دعا مانگے۔بعض لوگ نماز تو جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں اور بعد نماز ہاتھ اٹھا کر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جب سامنے کھڑا ہو اس وقت مانگتا نہیں۔جب باہر آجائے تو پھر دروازہ جا کھڑ کانے لگے۔نمازی نماز کے وقت خدا تعالیٰ کے حضور سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس وقت تو جلدی جلدی نماز پڑھ لیتا ہے اور کوئی حاجت یا ضرورت خدا تعالیٰ کے حضور پیش نہیں کرتا لیکن جب نماز سے فارغ ہو کر حضوری سے باہر آجاتا ہے پھر مانگنا شروع کرے( یہ ایک قسم کی سوء ادبی ہوگی ) اس کے یہ معنے نہیں کہ بغیر نماز دعا جائز نہیں صرف یہ مطلب ہے کہ نماز کے وقت خاص حضوری ہوتی ہے اس وقت ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ بہتر ہے کہ نماز کے اندر دعا کرے وہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔1472 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میں نے حضرت اماں جان صاحبہ سے سنا کہ ایک دفعہ شام کے وقت حضرت اُم المومنین صاحبہ اور مولویانی نے صلاح کی کہ حسن بی بی اہلیہ ملک غلام حسین صاحب کو ڈرائیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت اُم المومنین نے حسن بی بی سے کہا کہ پانی پلاؤ جب وہ پانی لینے گئی تو مولویانی صاحبہ چار پائی کے نیچے چھپ گئی۔وہ پانی لے کر آئی اور چار پائی کے پاس کھڑی ہو کر پانی دینے لگی تو مولو پانی صاحبہ نے