سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 256
سیرت المہدی 256 حصہ پنجم 1454 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا وصال لاہور میں ہوا ہے تو ڈاکٹر صاحب خلیفہ رشید الدین صاحب ایک سال کی رخصت پر قادیان آئے ہوئے تھے۔آپ نے بہت خواہش کی کہ حضور ان کو بھی اپنے ہمرکاب لاہور جانے کی اجازت مرحمت فرمائی جاوے۔مگر حضور نے فرمایا کہ " تم یہاں گھر کی حفاظت کرو۔بابوشاہ دین صاحب بیمار تھے ان کا علاج معالجہ بھی کرتے رہو۔اور کہ اپنے آدمی کا پیچھے گھر میں ہونا ضروری ہے۔روزانہ خبر بھیجتے رہا کرو۔اور اپنے حجرہ میں ڈاکٹر صاحب کو اور مجھے رہنے کا حکم فرمایا۔میری والدہ اور بھا وجہ اس جگہ تھے جہاں اب ام ناصر احمد سلمہ ہیں۔جب حضور کو لاہور میں تکلیف تھی اور جب تک حضور کے وصال کی خبر وصال کے دن عصر کے وقت تک نہ آئی تھی۔مجھے اور ڈاکٹر صاحب کو ایسی پریشانی تھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔دل بیٹھا جا تا تھا اور دماغ چکراتا تھا۔کسی پہلو قرار نہ تھا۔جب خبر پہنچی تو حالت دگرگوں ہو گئی اور معلوم ہوا کہ پہلا قلق اس ناشدنی خبر کا پیش خیمہ تھا۔1455 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام مسجد مبارک میں سورۃ الحمد شریف کے مضامین کے متعلق ذکر فرمارہے تھے اسی ضمن میں فرمایا کہ ایمان بین الخوف والرجا ہے اور سورۃ الحمد شریف میں الرحمان اور الرَّحِیم فرما کر ساتھ ہی مَالِكِ يَوْمِ الدِّين فرمایا۔اس سے ثابت ہے کہ اگر ایک طرف رحمن ورحیم ہے تو دوسری طرف مَالِكِ يَوْمِ الدِّين بھی ہے۔کیسا دونوں فقروں میں خوف ورجا کو نبھایا ہے۔“ 1456 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے کنجری کے مال کے متعلق فرمایا کہ دینی جہاد میں خرچ کر لیا جائے۔کیونکہ جب دشمن اسلام پر حملے کر رہا ہو اور اہل اسلام کے پاس گولہ بارود ( کے لئے ) کنجری کے مال کے سوا نہ ہو۔تو کیا دیکھتے رہنا چاہئے کہ یہ کنجری کا مال ہے، ہم استعمال نہیں کرتے۔ہر چیز خدا کی ملوک ہے، خدا ما لک ہے۔اس کی طرف جاکر پاک ہو جاتی ہے۔“