سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 257

سیرت المہدی 257 حصہ پنجم 1457 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سردار سند رسنگھ صاحب ساکن دھر کوٹ بگه تحصیل بٹالہ جب مسلمان ہو گئے تو ان کا اسلامی نام فضل حق رکھا گیا تھا۔ان کی بیوی اپنے آبائی سکھ مذہب پر مصر تھی۔سردار فضل حق صاحب چاہتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ایک دن حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمان نہیں ہوتی تو نہ ہووے ،اپنے مذہب پر رہتے ہوئے آپ کے گھر میں آباد رہے ، اسلام میں جائز ہے۔کوشش کی گئی لیکن وہ سردار صاحب کے پاس نہ آئی۔آخر سردار فضل حق صاحب کی شادی لاہور میں ہو گئی جس سے اولا د ہوئی۔1458 بسم الله الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ٹوپی سلمہ ستارہ کی بڑی خوبصورت بنی ہوئی تھی۔میاں شریف احمد صاحب اس وقت چھوٹے بچہ تھے وہ اس ٹو پی کو ٹھوکر میں مارتے اور پاؤں میں دبا کر دوسرے ہاتھ سے کھینچتے تھے۔ہم عورتوں نے منع کیا مگر نہ مانے۔حضرت اماں جان کے منع کرنے پر بھی نہ ر کے۔حضرت اماں جان نے حضور سے عرض کی کہ شریف ٹوپی خراب کر رہا ہے۔حضور نے باہر آکر دیکھا اور فرمایا کہ ” کیا ہوا بچہ تو ہے میں نے بھی جب میں چھوٹا تھا ایک خوبصورت کر تہ جو نینوں کا تھا پھاڑ 19966 دیا تھا۔بچہ جو ہوا چند مرتبہ فرمایا تھا۔اس پر میاں شریف احمد صاحب ٹوپی چھوڑ کر چلے گئے۔1459 بسم الله الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ کسی نے تین ترکی ٹوپیاں بھیجیں۔حضور علیہ السلام نے تینوں بچوں کو بلوا کر تینوں ٹوپیاں حضرت میاں محمود احمد صاحب، میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب سلّمھم کے سروں پر رکھ دیں اور اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔آپ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ آیا ٹوپیاں ٹھیک ہیں یا کیسی ہیں؟ 1460 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے قبول ہونے والی دعا کے متعلق فرمایا کہ دعا کیا ہے کہ جیسے مرگی کی حالت یکا یک وارد ہوتی ہے اسی طرح دعا کی حالت انسان پر وارد ہوتی ہے“۔