سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 250

سیرت المہدی کبھی یہ کام نہ کیا۔250 حصہ پنجم 1436 بسم اللہ الرحمن الرحیم اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک بار صاحبزادہ مبارک احمد کچھ بیمار ہو گئے۔آپ نے فرمایا کہ مکڑی کا گھر ہونا چاہئے۔میں نے کہا حضور ! میں لاتی ہوں۔میں اپنے گھر سے چار پانچ مکڑی کے گھر صاف کر کے لائی۔حضور نے لے کر دوائی بنائی۔“ 66 1437 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی کا کو صاحبہ نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہمارے گاؤں سیکھواں سے کچھ عورتیں آئیں جن میں منشی عبد العزیز پٹواری کی بیوی بھی تھی جو ایک ٹوکری میں تازہ جلیبیاں لائی۔حضور علیہ السلام پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔ایک خادمہ پاؤں دبا رہی تھی۔جلیبیوں کا رنگ بہت خوش نما تھا۔ٹوکری لا کر اس نے حضور کے سرہانے کی طرف پلنگ پر رکھ دی۔حضور نے ایک جلیبی اٹھا کر کھائی۔پیر دبانے والی خادمہ نے کہا کہ حضور یہ جلیبیاں ہندوؤں کے ہاتھ کی بنی ہوتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ترکاریاں جو ہم روز کھاتے ہیں یہ گوبر کی کھاد کی بنی ہوئی ہیں۔دھودھا کر ہمارے آگے رکھ دیتے ہیں ہم کھا لیتے ہیں۔1438 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مسماۃ غفور بیگم صاحبہ بنت حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی ہمشیرہ پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں قادیان میں اپنے بھائی کے ہاں آئی ہوئی تھی۔ہم سب رات کو حضرت اماں جان کے پاس آئیں۔ایک بڑے دالان میں ہم سب بیٹھی ہوئی تھیں، اماں جان بھی تھیں۔حضور کا چھوٹا بچہ ( مجھے یاد نہیں کہ کون سا صا حبزادہ تھا؟) رونے لگا۔حضور علیہ السلام جو ام ناصر کے آنگن میں دروازہ تھا اس میں سے باہر تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور نے کھڑکی میں سراندر کر کے دریافت کیا کہ " کیا بچہ چپ ہو گیا ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ چہ کر گیا ہے تو حضور علیہ السلام اندر تشریف لائے۔1439 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی کا کو صاحبہ نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے زمانہ میں جو بھی کوئی عورت آتی حضور کو سلام کرتی۔حضور علیہ السلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ