سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 246
سیرت المہدی 246 حصہ پنجم خدمت میں بیعت کرنے کو آئی۔رحیم بی بی نائن نے جا کر عرض کی ایک نابینا لڑ کی بیعت کرنے کو آئی ہے۔حضور اندر سے تشریف لائے اور فرمایا کہ نماز ظہر کے بعد بیعت لیں گے۔میں گھر چلی گئی جب ظہر کے بعد آئی تو حضور نے فرمایا کہ عصر کے بعد۔میں وہیں بیٹھی رہی۔عصر کے بعد جب میں نے عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ شام کو۔شام کو حضور نے ام ناصر احمد سلمھا اللہ کے مکان کے آنگن میں نماز مغرب وعشاء جمع کرا کر پڑھائیں۔حضور اور حضرت اماں جان نے پلنگ پر بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم سب عورتوں نے پیچھے شاه نشین پر۔مائی سلطانوں نے کہا کہ حضور وہ لڑکی بیعت کرنے کو کھڑی ہے۔حضور نے فرمایا کہ صبح کو۔صبح جب آئی تو حضور سیر کو تشریف لے گئے تھے۔حضور واپس آئے تو پھر منشیانی نے کہا کہ حضور وہ لڑکی پھر بیعت کرنے آئی ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس کو کھانا کھلا دیا ہے یا نہیں؟“ آپ نے سلطانوں کو بلا کر فرمایا کہ اس کو کھانا کھلا دو۔“ اس نے مجھے کھانا کھلا دیا۔کھانے کے بعد جب پوچھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ظہر کے بعد ، ظہر کے بعد فرمایا کہ عصر کے بعد عصر کے بعد پوچھا تو فرمایا کہ صبح کو میں گھر چلی گئی۔صبح دس بجے جب آئی تو حضور دروازے میں کھڑے حافظ احمد اللہ صاحب کی لڑکی کلثوم کو بلا رہے تھے کلثوم ! کلثوم !! جب وہ آئی تو اس کو انگور دئے پھر اس کو کہا کہ ”زینب ( یعنی اس کی بڑی بہن ) کہاں ہے؟ اس کو بلا کر بھی انگور دئے پھر مجھے بھی انگور دئے۔کلثوم نے کہا کہ یہ بیعت کرنے کو آئی ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ظہر کے بعد میں وہیں بیٹھی رہی۔ظہر کے بعد فرمایا کہ لڑکی تیری بیعت ہو چکی اس طرح تیسرے دن میری بیعت قبول ہوئی تھی۔1427 بسم اللہ الرحمن الرحیم اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کشمیر سے بہت سے سیب آئے۔حضور نے فرمایا کہ سب گھروں میں تقسیم کر دو۔آٹھ آٹھ نو نوسیب گھروں میں بانٹے گئے تھے۔سیب بڑے بڑے اور بہت اچھے تھے۔گھر میں سیبوں کا مربہ تھاوہ کچھ خراب ہو گیا تھا۔حضور نے فرمایا کہ اس کو پھینک دو بعض عورتوں نے عرض کی کہ یہ مربہ ان کو دے دیا جائے مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں لوگ کھا کر بیمار ہو جائیں گے۔عورتوں نے کہا کہ اوپر سے پھینک دیتے ہیں۔نیچے والا اچھا ہو گا اس کو پھر پکالیں گے۔چنانچہ نیچے والا جو اچھا نکلا تھا