سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 225
سیرت المہدی بھی فرمایا کہ ”جاؤ پیٹ سکھنیو ، 66 225 حصہ پنجم 1373 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی رکھی ککے زئی خادمہ۔فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مائی تابی میری خالہ کا ایک ہی بیٹا تھا جوفوت ہو گیا۔وہ غم سے پاگل ہوگئی اور سارا دن بیٹے کی قبر پر پڑی رہتی تھی۔لوگوں نے کہا کہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھیج دو۔لوگ اس کو یہاں لے آئے۔وہ نیچے رہا کرتی تھی۔نیچے دالان میں گھڑے پڑے رہتے تھے وہ ان میں اپنا کرتہ ڈبو دیتی تھی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ گھڑے اس کے واسطے ہی رہنے دو اور گھر کی ضرورت کے واسطے اور رکھ لو۔جب وہ رونا شروع کرتی تو حضور خود اس سے پوچھتے کہ ” کیوں روتی ہے؟“ وہ کہتی کہ مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔تو حضور فرماتے کہ ” میں بھی تیرا بیٹا ہوں آخر وہ اچھی ہوگئی تو اس نے حضور سے کہا۔میں اپنی روٹی آپ پکا یا کروں گی۔جو عورتیں روٹی پکاتی ہیں ان کے ہاتھ صاف نہیں ہوتے۔اس پر حضور نے اس کو آٹے کے پیسے الگ دے دیئے۔وہ اپنی روٹی خود پکا یا کرتی تھی۔1374 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب صلاح الدین کوئی تین مہینے کا تھا۔میں حضرت اقدس کی خدمت عالی میں سلام اور دعا کے واسطے روزانہ جاتی تھی۔ایک دن جب میں آنے لگی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ٹھہر جاؤ آج ہم نے مستی روٹی پکوائی ہے۔میں نے عرض کی حضور میرا بچہ ابھی چھوٹا ہے۔میں سخت غذا سے بہت ڈرتی ہوں۔میری والدہ سخت پر ہیز کراتی ہیں۔اگر ذراسی بھی ثقیل غذا کھائی جائے تو بچہ کو فورا تکلیف ہوتی ہے۔متی روٹی میں نہیں کھا سکتی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کھا لو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔آپ اس وقت دیہات سے آئی ہوئی عورتوں کو کھانا کھلوا ر ہے تھے۔جب روٹیاں پک کر آئیں تو آپ نے گھی منگوا کر ان کو لگوایا اور مجھے مستی روٹی اور لسی دی۔میں نے بخوشی کھالی۔کوئی تکلیف اس سے مجھ کو یا بچہ کونہیں ہوئی۔1375 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”حضرت ام المومنین کی پہلی صاحبزادی عصمت بیگم کا ناک