سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 210 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 210

سیرت المہدی 210 حصہ پنجم مظہر علی طالب اور منظر علی وصال بھی افریقہ چلے گئے ہوئے تھے۔بھائی فیض علی صاحب صابر جب واپس آئے تو قادیان آتے جاتے رہتے تھے اور گھر میں وہاں کے حالات سنایا کرتے تھے جس سے مجھے تو گونہ تسلی ہوتی لیکن والدہ ماجدہ مرحومہ کو مخالفوں نے بہت ڈرایا ہوا تھا۔1338 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے گھر میں پرانے رسم ورواج اور پردہ کی بڑی پابندی تھی۔کنواریوں کو سخت پابندی سے رکھا جاتا تھا۔اچھی وضع کے کپڑے، مہندی ، سرمہ اور پھول وغیرہ کا استعمال ان کے لئے ناجائز تھا۔ایک مرتبہ بھائی صاحب چھوٹے بھائیوں کے واسطے کوٹوں کا کپڑا لائے۔میرے دل میں خیال پیدا ہو کہ میں بھی اس کی صدری بنا سکتی بچپن کی بات تھی۔اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی بچوں سے اسی طرح کا علیٰ قدر مراتب ہوتا ہے۔میں نے خیال کیا کہ اگر حضرت صاحب سچے ہیں تو خدا کرے اس کپڑے میں سے کوٹوں کی وضع کے بعد میری صدری کے قابل کپڑا بیچ جاوے۔چنانچہ جب کپڑا بچ گیا تو میں حیران تھی۔میرا دل صدری پہنے کو چاہتا تھا مگر زبان نہیں کھول سکتی تھی۔پھر میں نے دعا کی اگر حضرت مرزا صاحب بچے ہیں تو میری صدری بن جائے۔اور ڈرتے ڈرتے اماں جی سے کہا کہ میں اس کی صدری بنالوں ؟ یہ سن کر وہ سخت خفا ہونے لگیں کہ لڑکیاں بھی کبھی صدری پہنا کرتی ہیں؟ اس وقت بھائی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔بول پڑے کہ کونسی شریعت میں لڑکیوں کو صدری پہننا منع ہے؟ اس پر والدہ صاحبہ نے وہ کپڑا میری طرف پھینک دیا۔میں نے کاٹ کر کے شام تک اس کی صدری سی لی۔جس میں دو جیب بنا لئے تھے۔جب اس کو پہنا تو خیال ہوا کہ جیب خالی نہ ہونا چاہئے اس پر پھر خیال آیا کہ اگر حضرت مرزا صاحب بچے ہیں تو مجھے کہیں سے ایک روپیہ بھی مل جاوے۔اللہ کریم نے اس کو بھی پورا کر دیا۔مجھے ایک روپیہ بھائی نے خود ہی دے دیا۔1339 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسطه بجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ”ہمارے ہاں سوہانجنے کا اچار بیٹھ جایا کرتا ہے“۔منشی نبی بخش صاحب نے کہا۔”میری بیوی سوہانجنے کا اچار بہت اچھا ڈالتی ہے اس پر حضرت صاحب نے