سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 204
سیرت المہدی 204 حصہ پنجم 1322 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں نے بواسطه لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمارے ساتھ ایک بوڑھی عورت مائی تابی رہتی تھی۔اس کے کمرے میں ایک روز بلی پاخانہ کر گئی۔اس نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا میرے ساتھ جو دو عورتیں تھیں انہوں نے خیال کیا کہ ہم سے تنگ آکر مائی تابی ایسا کہتی ہے۔ایک نے تنگ آکر اپنے خاوند کو رقعہ لکھا جو ہمارے ساتھ آیا ہوا تھا کہ مائی تابی ہمیں تنگ کرتی ہے۔ہمارے لئے الگ مکان کا انتظام کر دیں۔جلال الدین نے وہ رقعہ حضوڑ کے سامنے پیش کر دیا۔رقعہ پڑھتے ہی حضور کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ نے فورامائی تابی کو بلایا اور فرمایا۔تم مہمانوں کو تکلیف دیتی ہو۔تمہاری اس حرکت سے مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اس قدر تکلیف که اگر خدانخوستہ میرے چاروں بچے مرجاتے تو مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی مہمانوں کو تکلیف دینے سے پہنچی ہے۔مائی تابی نے ہم سے اور حضرت صاحب سے معافی مانگی۔اس کے بعد مائی تابی اور ہم بہت اچھی طرح رہتے رہے۔1323 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزامحمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کا ذکر ہے کہ چار پائیوں کی ضرورت تھی تو جلسہ والے ہم سب گھر والوں کی چار پائیاں لے گئے۔آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے میاں نجم الدین صاحب مرحوم مغفور کو بلا کر فرمایا۔فضل بیگم کی چار پائی کیوں لے گئے ہو؟ کیا وہ مہمان نہیں ؟ بس ان کی چار پائی جہاں سے لائے ہو وہیں پہنچا دو۔وہ بیچارے لا کر بچھا گئے۔1324 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فقیر محمد صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ آیا تھا تو حضرت صاحب باغ میں تشریف لے گئے تھے۔میں نواب صاحب کے کام کرتا تھا۔جب اذان ہوگئی تو ہم سب نماز کے لئے گئے۔حضرت صاحب بھی تشریف لائے۔آپ کچھ باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا۔حضور! شرمیت آپ کا دوست ہے اور وہ مسلمان نہیں ہوا؟ حضرت صاحب نے فرمایا۔” وہ مسلمان نہیں ہو گا مگر مصدق ہو جائے گا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے پوچھا کہ حضور مصدق کا کیا مطلب ہے۔آپ نے فرمایا کہ میری سب باتوں کا یقین کرلے گا“۔