سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 202
<mark>سیر</mark>ت المہ<mark>دی</mark> 202 حصہ پنجم کے بعد لیکھر ام، آریوں کے <mark>ساتھ</mark> آپ کا مباحثہ ہوتا رہا۔1318 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی بھولی۔مائی جیواں عرف ملا قادر آباد نے بواسطه لجنہ اماء اللہ قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> بذریعہ تحریر بی<mark>ان</mark> کیا کہ ایک دن <mark>حضور</mark> علیہ السلام <mark>سیر</mark> کو آئے تو <mark>دی</mark>کھا راستہ <mark>جو</mark> پہلے خراب تھا۔نیا بنا <mark>ہوا</mark> ہے۔آپ نے فرمایا۔یہ کس نے بنایا ہے ؟ ہم نے کہا <mark>حضور</mark> آپ کی اسامیوں نے۔آپ بہت <mark>خوش</mark> <mark>ہوئے</mark> اور ہنسے۔وو ایک بار <mark>حضور</mark> تشریف لائے تو میں نئی کنک ( گندم) بھنا کر لے گئی۔آپ نے <mark>اپنے</mark> <mark>ساتھ</mark> <mark>جو</mark> تھے <mark>ان</mark> کو ب<mark>ان</mark>ٹ <mark>دی</mark>۔<mark>خود</mark> بھی <mark>چکھی</mark> اور <mark>خوش</mark> <mark>ہوئے</mark>۔جب <mark>حضور</mark> <mark>سیر</mark> کو <mark>آیا</mark> <mark>کرتے</mark> تو <mark>ہماری</mark> <mark>کچی</mark> <mark>مسجد</mark> میں آکر نماز اشراق پڑھتے۔ہم لوگ ساگ روٹی پیش <mark>کرتے</mark> تو <mark>حضور</mark> علیہ السلام کبھی بُرا نہ مناتے اور نہ ہی کراہت <mark>کرتے</mark>۔1319 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ منشی <mark>نبی</mark> بخش صاحب نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> بذریعہ تحریر بی<mark>ان</mark> کیا کہ ”ہم نے قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> میں مک<mark>ان</mark> بن<mark>ان</mark>ا شروع کیا۔<mark>دی</mark>وار میں وغیرہ بنوائیں تو مرز <mark>ان</mark>ظام ال<mark>دی</mark>ن نے آ کے گرا<mark>دی</mark>ا۔اس پر <mark>حضور</mark> پر نور نے فرمایا کہ اگر خدا نے چاہا تو آپ کا مک<mark>ان</mark> پھر اور کہیں بن جائے گا۔جب نواب مبارکہ بیگم صاحبہ <mark>پیدا</mark> ہوئیں۔میں قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> میں ہی تھی۔حضرت اُم المومنین کو کچھ تکلیف تھی ، <mark>حضور</mark> علیہ السلام نے دعا فرمائی۔خدا نے شفا بخشی۔آپ نے <mark>ان</mark> کی <mark>پیدا</mark>ئش پر بہت <mark>خوش</mark>ی کا وو اظہار فرمایا۔1320 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید ال<mark>دی</mark>ن صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> بذریعہ تحریر بی<mark>ان</mark> کیا کہ ۱۹۰۳ء کا ذکر ہے کہ میں اور ڈاکٹر صاحب مرحوم رڑکی سے آئے۔چار دن کی رخصت تھی۔<mark>حضور</mark> نے پوچھا۔” سفر میں روزہ تو نہیں تھا ؟“ ہم نے کہا نہیں۔<mark>حضور</mark> نے ہمیں گلابی کمرہ رہنے کو <mark>دی</mark>ا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا ”ہم روزہ رکھیں گے۔آپ نے فرمایا ” بہت اچھا! آپ سفر میں ہیں“ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔<mark>حضور</mark> ! چند روز قیام کرنا ہے دل چاہتا ہے روزہ رکھوں۔آپ نے فرمایا۔اچھا ! ہم آپ کو کشمیری پر اٹھے کھلائیں گے۔“ ہم نے خیال کیا کشمیری پراٹھے خدا ج<mark>ان</mark>ے کیسے ہونگے ؟ جب سحری کا وقت <mark>ہوا</mark> اور ہم تہجد ونوافل سے فارغ <mark>ہوئے</mark> اور کھ<mark>ان</mark>ا <mark>آیا</mark> تو حضرت اقدس مسیح موعود