سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 195 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 195

سیرت المہدی 195 حصہ پنجم نے ان کا نام فہرست مذکور میں درج فرما کر ان کے اخلاص کا اظہار فرما دیا )۔نے ذکر کیا کہ جہاں مسجد اقصیٰ بنائی گئی ہے۔سکھ حکومت میں یہ جیل خانہ تھا اور ایک کاردار حکومت کرتا تھا۔جب انگریزی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت یہ زمین نیلام کی گئی۔ہندوؤں کا ارادہ تھا کہ یہ زمین خرید کر اس پر گوردوارہ بنایا جائے۔لیکن حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کو یہ خیال تھا کہ یہاں مسجد بنائی جائے۔چونکہ دوقوموں میں مقابلہ ہونا تھا، معلوم نہیں کہ بولی کہاں تک بڑھ جائے ، اس لئے ان کی خدمت میں عرض کی گئی کہ کہاں تک بولی دی جائے تو حضرت مرزا صاحب موصوف نے فرمایا کہ بس میری طرف سے یہ جواب ہے کہ آخری بولی میرے نام پر ختم ہو۔خواہ کہاں تک بولی جائے“ ہندوسات سو روپیہ بولی دے کر ٹھہر گئے۔آخری بولی حضرت موصوف مرحوم کے نام پر ختم ہوگئی۔نوٹ : خدا جانے حضرت موصوف مرحوم نے کس جوش و غیرت ملی سے اس زمین کو خرید کر مسجد کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ قبولیت مسجد شہادت دیتی ہے کہ کسی پاک نیت سے یہ کام کیا گیا ہے کہ خدا کا پاک نبی مسیح۔موعود اس میں نماز پڑھتا رہا۔اب آپ کی جماعت مستفید ہورہی ہے وغیرہ۔یا اللہ بانی مسجد پر ہزاروں ہزار رحمتیں اور فضل نازل فرما۔آمین 1301 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔راجو زوجہ فقیر محمد قادر آباد نے بذریعہ تحریر بواسطه لجنہ اماء اللہ قادیان مجھ سے بیان کیا کہ میری ساس جس کو حضرت صاحب ” ہو کہا کرتے تھے۔پہلی دفعہ مجھے حضور علیہ السلام کے سلام کے لئے لے گئی۔حضور نے پوچھا کہ ہستو ! یہ تیری درانی ہے یا بہو ہے؟ حضور نے بالآخر مبارک باد دی اور دعا دی اور فرمایا۔” یہ رشتہ کہاں سے لیا ہے؟“۔۔۔۔حضور علیہ السلام ہمارے برتنوں میں ہمارے ہاتھوں سے لے کر کھا لیا کرتے تھے۔حضور کا لباس بہت سادہ ہوتا تھا اور بال سرخ چمکیلے تھے۔سر پر پگڑی باندھتے۔گرتے کے اوپر چوغہ پہنتے یا کوٹ۔اور شرعی پائجامہ پہنتے۔جوتا سادہ ہوتا۔ہاتھ میں سوٹی رکھتے۔1302 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی بھا گو اور مائی بھانو صاحبہ قادر آباد نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مائی بھاگو اور بھا نو ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پنکھ ہلا رہی