سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 194 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 194

سیرت المہدی 194 حصہ پنجم لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب تین ماہ کی رخصت لے کر آگرہ سے قادیان آئے۔آگرہ میں خورمے بہت عمدہ اور بڑے بڑے بنتے تھے۔حضور کو بہت پسند تھے ڈاکٹر صاحب جب آتے تو حضرت صاحب کے لئے خور مے ضرور لاتے تھے۔حضور علیہ السلام نے صبح سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا۔عصر کے وقت میں آئی۔آپ بہت خوش ہوئے۔مجھ سے سفر کا حال پوچھتے رہے۔اماں جان نے کہا کہ کھانا تیار ہے آپ نے فرمایا۔طبیعت نہیں چاہتی، پھر حضرت اماں جان نے کہا کہ مراد خاتون تو آپ کے لئے آگرہ سے خورمے لائی ہیں۔پہلے تو آپ بہت خوش ہوئے پھر فرمایا۔” یہ مجھے بہت پسند ہیں لاؤ میں کھاؤں“۔جب سامنے لائے گئے تو فرمایا۔”اُف اتنے بہت سے“۔حضور نے کھائے اور کہا۔”یہ میرے لئے رکھو میں پھر کھاؤں گا۔میرا اتنا دل خوش ہوا کہ میں بیان نہیں کرسکتی۔پھر میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا وہ بھی بہت خوش ہوئے۔کتنی دیر تک آسمان کی طرف منہ کر کے سبحان الله سبحان اللہ پڑھتے رہے۔1298 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔والدہ صاحبہ فاطمہ بیگم بیوہ میاں کریم بخش صاحب باورچی نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک عورت جو سامانہ کی رہنے والی تھی حج کر کے حضور کے گھر آئی۔وہ اس وقت پہنچی جبکہ حضور کا تمام کنبہ کھانا کھا چکا تھا۔حضوڑ تھوڑی دیر بعد حجرے سے باہر نکلے اور کہا کہ تم نے کھانا کھا لیا ہے کہ نہیں ؟ اس نے کہا ”نہیں“ حضور علیہ السلام گھر والوں کو خفا ہو کر کہنے لگے کہ تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔یہی تو میرے بال بچے ہیں۔حضور نے خود کھانا منگوا کر اُسے کھلایا۔1299 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام کے حضور ذکر ہوا کہ مسجد اقصی کے ارد گرد زمین پڑی ہوئی ہے اور لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”مسجد اپنی زمین لے لی گی۔“ 1300 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میاں جان محمد صاحب ( جو میرے ماموں تھے اور مخلص تھے سیدنا حضرت مسیح موعود نے جب اپنے ۳۱۳ ،صحابہ کی فہرست تیار فرمائی اس وقت میاں جان محمد صاحب فوت ہو چکے تھے۔حضور علیہ السلام 6