سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 192
سیرت المہدی 192 حصہ پنجم تھیں اور میں بھی ان کے ساتھ کہتی جاتی۔اس وقت نیچے جو بڑا دالان ہے اس میں بیٹھے تھے حضور علیہ السلام نے پوچھا کہ ” آپ کی نندوں کا رشتہ ہوگیا ؟ میں نے کہا ”جی نہیں میرا بھائی دیر سے بیمار تھا میرے خاوند نے کہا کہ حضور سے اجازت لے کر چلو تمہارا بھائی بیمار ہے۔آپ نے فرمایا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔پھر ہم دو ماہ بعد پٹی چلے گئے۔1291 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ آیت لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ (المائدة: (۷۹) پڑھ کر تقریر کی تو بعد نماز جمعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ دوران خطبہ میں الہام ہوا ہے کہ وزیر آباد پر بھی لعنت پڑ گئی۔* ( اللَّهُمَّ نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ الیک۔آمین) 1292 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” ضرورت امام پر مضمون لکھو ( جماعت ابھی تھوڑی تھی ) اکثر احباب نے جو کچھ خواندہ تھے مضامین لکھے۔میں نے بھی لکھا جب مضامین جمع ہو گئے تو بعدش حضور علیہ السلام شام وعشاء کے درمیان سنا کرتے تھے۔جس روز میرا مضمون پڑھا گیا تو میں موجود نہ تھا۔مولوی قطب الدین صاحب طبیب قادیان نے مجھے کہا کہ تمہارے مضمون کو سن کر حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ” ہے تو وہ جاٹ جیسا لیکن مضمون بہت اچھا لکھا ہے۔مجھے یاد ہے کہ تحریر مضمون کے وقت مجھے دعا کی توفیق مل گئی تھی ورنہ علمی خوبی مجھ میں کوئی نہ تھی نہ اب ہے۔الحمد لله۔1293 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارا زمینداری کا کام تھا ایک دفعہ بارش بہت کم ہوئی فصل خراب ہو گئی ، دانے کھانے کے واسطے بھی بہت کم تھے۔ادھر حضرت صاحب کے مختار ، حامد علی صاحب معاملہ لینے کے لئے آگئے۔سب آدمیوں نے مل کر عرض کی کہ دانے بہت کم ہیں۔معاملے کے واسطے اگر بیچ دیئے جائیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ؟ حامد علی صاحب نے تذکرہ میں اس الہام کے الفاظ یوں مندرج ہیں یہ لعنت ابھی وزیر آباد میں بری ہے ( تذکرہ صفحہ 268 ایڈیشن چہارم مطبوعہ 2004ء)