سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 170

سیرت المہدی 170 حصہ چہارم ہے یہ کل جگہ ویران اور منہدم پڑی تھی۔مرزا نظام الدین وغیرہ ہر موقعہ پر اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے۔یہاں بھی یہی خیال ان کو تھا۔ایک روز حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس جگہ پر ایک دن میں مکان تیار کیا جائے۔“ چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب نے مجھے کہا کہ اپنے گاؤں سیکھواں سے کچھ آدمی فور الا ؤ۔چنانچہ دس بارہ آدمی سیکھواں سے قادیان پہنچ گئے اور مکان تیار ہونا شروع ہو گیا۔چونکہ حضرت صاحب شامل تھے اس لئے تمام لوگ جماعت کے (اس وقت ابھی جماعت برائے نام ہی تھی ) کام میں مشغول تھے۔حتی کہ حضرت خلیفہ اول کو بھی میں نے دیکھا کہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر معماروں کو دیتے تھے۔ایک ہی دن میں مکان تیار ہو گیا۔مرزا نظام الدین صاحب وغیرہ اس نظارہ کو دیکھتے تھے لیکن طاقت نہ تھی کہ کسی کو آکر روک سکیں۔شام کے بعد مسجد مبارک میں حضرت صاحب کے حضور مرزا خدا بخش صاحب نے واقعات پیش کئے اور کامیابی کا اظہار کیا گیا۔اور سیکھواں سے آدمی پہنچنے کا ذکر کیا گیا۔الحمد للہ علی ذالک 1251 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں میاں منظور علی شاہ صاحب ولد سید محمد علی شاہ صاحب کی بسم اللہ کی تقریب پر جو مولوی نورالدین صاحب نے کرائی تھی، گیا تھا۔حسب دستور میں مولوی صاحب کے درس میں جایا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کبھی کبھی سیر کو بھی جایا کرتا تھا۔میں تقریبا پندرہ بیس دن وہاں رہا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جس زمانہ میں ڈاکٹر عبدالحکیم ( جو بعد میں مرتد ہو گیا تھا) قرآن شریف کا ترجمہ کر کے لایا ہوا تھا۔حضرت صاحب سیر کو جاتے تھے اور وہ سناتا جاتا تھا۔حضور علیہ السلام سنتے جاتے تھے اور بعض دفعہ کچھ فرمایا بھی کرتے تھے۔1252 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرا بیٹا عبد الغفور ابھی چھوٹا ہی تھا کہ اس کی نانی اپنی پوتی کا رشتہ اس کو دینے کے لئے مجھے زور دے رہی تھی اور میں منظور نہیں کرتا تھا۔چنانچہ ایک دن موقعہ پاکر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ حضور میں اپنی پوتی کا رشتہ اپنے نواسہ کو دیتی ہوں اور یہ میرا بیٹا پسند نہیں کرتا۔حضور نے مجھے بلایا اور کہا کہ یہ رشتہ تم کیوں نہیں لیتے ؟“ میں نے عرض کی کہ حضور ! یہ لوگ مخالف ہیں اور سخت گوئی کرتے ہیں اس