سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 169
سیرت المہدی 169 حصہ چہارم بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام سیر کے واسطے باہر تشریف لے گئے اور میں بھی ساتھ تھا۔جب واپس تشریف لائے اور اندر گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے جھٹ آگے ہو کر عرض کی کہ ” پہلے بزرگ ، اگر کسی کو کچھ تکلیف ہوتی تھی تو اس پر وہ بزرگ اپنے منہ کی لب لگا دیا کرتے تھے اور اس کو شفا ہو جاتی تھی۔حضور علیہ السلام میری آنکھوں پر ہمیشہ پھنسیاں نکلتی رہتی ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام مسکرا پڑے اور کچھ پڑھ کر میری آنکھوں پر دم کر دیا۔آج تک قریباً پینتیس برس ہو گئے ہیں میری آنکھوں میں کبھی پھنسی نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی دکھنے میں نہیں آئیں۔الحمد لله 1248 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک بابا میراں بخش ہوتا تھا جو سید محمد علی شاہ صاحب کا نائی تھا اور بوڑھا آدمی تھا۔اس سے بھی میں حضرت صاحب کی نسبت دریافت کیا کرتا تھا۔اس نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ آپ بچپن سے نیک اور شریف تھے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ حضور بچپن میں اپنے ہم جھولیوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ریوڑیاں آپ کو مرغوب تھیں جو آپ اپنے ہم جھولیوں میں بانٹ کر کھایا کرتے تھے۔1249 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ دعا کے متعلق کچھ سوال ہوا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” دعا ہی مومن کا ہتھیار ہے۔دعا کو ہرگز چھوڑ نا نہیں چاہئے۔بلکہ دعا سے تھکنا نہیں چاہئے۔لوگوں کی عادت ہے کہ کچھ دن دعا کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں۔دعا کی مثال حضور علیہ السلام نے کوئیں کی دی کہ انسان کنواں کھودتا ہے جب پانی قریب پہنچتا ہے تو تھک کر نا امید ہو کر چھوڑ دیتا ہے۔اگر وہ ایک دو بالشت اور کھودتا تو نیچے سے پانی نکل آتا اور اس کا مقصود حاصل ہو جاتا اور کامیاب ہو جاتا۔اسی طرح دعا کا کام ہے کہ انسان کچھ دن دعا کرتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے اور نا کام رہتا ہے۔1250 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس دکان میں فخر الدین ملتانی بیٹھتا تھا اور اس کے جانب شرق میں مولوی کرم الہی بزاز کھا روی بیٹھتا ہے اور درمیان میں دروازہ آمد و رفت چھوڑ کر جانب شرق متصل میں وہ دکان جس میں عبدالرحیم فالودہ والا بیٹھتا