سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 166
سیرت المہدی 166 حصہ چہارم وَارْحَمْنِي ( آمین ) بذریعہ الہام تعلیم فرمائی تو حضور علیہ السلام نے ایک روز ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے اور ہر ایک قسم کی مصیبت سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔یہ بھی فرمایا کہ بجائے واحد کے بصورت جمع بھی اس کا استعمال جائز ہے۔یہ ان دنوں میں حضرت صاحب پر جناب الہی سے نازل ہوئی تھی جن ایام میں مقدمات ہونے والے تھے یا شروع ہو گئے تھے۔1242 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بیوی نے مجھ سے اپنی خواب بیان کی جو یہ ہے۔وہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام ایک میدان میں یا ایک مکان میں ٹہل رہے ہیں اور ان کے سر پر سبز دستار ہے اور ہاتھ میں کتاب ہے۔حضور علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ "برکت بی بی ! فلاں جگہ ایک تھان ریشمی سبز رنگ کا پڑا ہے۔اٹھالا ؤ اور وہ کتاب جو حضور علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے وہ مولوی نورالدین صاحب کو دے دی اور مولوی صاحب کے سر پر سفید پگڑی ہے اور چار پائی پر بیٹھے ہیں۔مولوی صاحب نے وہ کتاب حضرت میاں محمود احمد صاحب کو دے دی اور میاں صاحب کے سر پر سبز ریشمی پگڑی ہے۔وہ کچھ لمبی خواب تھی جو انہوں نے بتلائی۔یہ خواب انہوں نے حضرت ام المومنین صاحبہ کو اسی وقت سنائی تھی۔جب حضرت خلیفہ صاحب اوّل کا انتقال ہوا تھا۔تو اس وقت حضرت ام المومنین نے فرمایا تھا کہ اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہو تو بتاوے۔چنانچہ حضرت ام المومنین کو وہ خواب یاد کرائی گئی تو حضور نے فرمایا کہ وہ خواب تو مجھے یاد ہے۔1243 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور سیدنا مسیح موعود نے فرمایا کہ دعا نماز میں بہت کرنی چاہئے نیز فرمایا کہ اپنی زبان میں دعا کرنی چاہئے لیکن جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اس کو انہیں الفاظ میں پڑھنا چاہئے مثلاً رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی وغیرہ پڑھ کر اور اس کے بعد بیشک اپنی زبان میں دعا کی جائے۔نیز فرمایا کہ رکوع و سجدہ کی حالت میں قرآنی دعا نہ کی جائے کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اور رکوع اور سجدہ تذلیل کی حالت ہے۔اس لئے