سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 161
سیرت المہدی 161 حصہ چہارم اس ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا دانی خدا تیرے مرحبا مولوی صاحب! یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ؟ ہے اس وقت مجھے ہوش آیا اور میں نے تم دونوں بھائیوں کو سری نگر اپنے ماموں کے پاس چھوڑا اور قادیان پیدل چلا گیا۔اور وہاں بیعت سے مشرف ہوا۔فالحمد للہ م الحمد للہ علی ذالک 1230 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان پہنچا۔حضور گھر میں معہ احباب مہمانان کھانا کھانے کے لئے تیار تھے کہ میں بھی گھر میں داخل ہوا۔میرے لئے بھی کھانا آ گیا۔جب کھانا رکھا گیا تو رکابی پلاؤ کی زائد از حصہ رسدی حضور علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے اٹھا کر میرے آگے رکھ دی۔تمام حاضرین میری طرف دیکھنے لگ گئے۔میں حضور علیہ السلام کی شفقت بھری نگاہوں سے خدا تعالیٰ کا شکریہ کرتے ہوئے کہتا ہوں۔الحمد للہ علی ذالک۔1231 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں پادری مارٹن کلارک امرتسر نے حضور کے خلاف اقدام قتل کا استغاثہ کیا۔اول عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر امرتسر سے حضور کے خلاف ورانٹ جاری ہو کر گورداسپور پہنچا لیکن جلد ہی واپس ہو گیا۔چوہدری رستم علی صاحب ان دنوں گورداسپور میں بعہدہ کورٹ انسپکٹر مقرر تھے۔انہوں نے منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی ( پٹواری سیکھوانی ) کو اطلاع دی۔وہ فوراً سیکھواں آئے۔میں بھی سیکھواں سے شامل ہوا۔قادیان پہنچ کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع کی گئی۔حضور علیہ السلام نے اندر ہی بلالیا۔حاضر خدمت ہوکر خط چوہدری رستم علی صاحب مرحوم والا پیش کر دیا۔خط پڑھ کر فرمایا ( قریب ہی ایک دریچہ تھا جس کے آگے بیٹھ کر حضور علیہ السلام تحریر کا کام کیا کرتے تھے ) اس دریچہ کے باہر سے خواب یا کشف میں معلوم ہوا کہ بجلی آئی ہے لیکن واپس ہو گئی (چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وارنٹ امرتسر سے جاری ہوا پھر حکام کو غلطی خود معلوم ہوگئی