سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 156
سیرت المہدی 156 حصہ چہارم ایک دفعہ حضور بمعہ اصحاب اس راستہ کی طرف جو یوں ٹمٹموں کا راستہ متصل محلہ خاکروبان بٹالہ کو جاتا ہے۔سیر کو تشریف لے گئے۔واپسی پر راستہ کے ایک طرف درخت کیکر کسی کا گرا ہوا تھا۔بعض دوستوں نے اس کی خورد شاخیں کاٹ کر مسواکیں بنالیں۔حضور علیہ السلام کے ساتھ اس وقت حضرت خلیفہ ثانی بھی تھے (اس وقت دس بارہ سال عمر تھی ) ایک مسواک کسی بھائی نے ان کو دے دی اور انہوں نے بوجہ بچپن کی تکلفی کے ایک دفعہ کہا کہ ابا تسیں مسواک لے لو۔حضور علیہ السلام نے جواب نہ دیا۔پھر دوبارہ یہی کہا۔حضور علیہ السلام نے پھر جواب نہ دیا۔سہ بارہ پھر کہا کہ ابا مسواک لے لو۔تو حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”پہلے یہ بتاؤ کہ مسواکیں کس کی اجازت سے لی گئی ہیں ؟ اس فرمان کو سنتے ہی سب نے مسواکیں زمین پر پھینک دیں۔66 1219 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میرے والد خواجہ حبیب اللہ صاحب مرحوم و مغفور ساکن گاگرن کشمیر نے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے دریافت کیا۔حضور! درود شریف کس قدر پڑھنا چاہئے؟ حضور نے فرمایا۔تب تک پڑھنا چاہئے کہ زبان تر ہو جائے۔“ 1220 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب قیام مقبرہ بہشتی سے پہلے فوت ہوئے اور اس قبرستان میں جو شہیدوں کے تکیہ کے قریب جانب شرق قادیان قدیم واقعہ ہے بطور امانت حسب الارشاد حضرت اقدس مدفون ہوئے تھے۔ایک دفعہ حضور علیہ السلام اس طرف سیر کو تشریف لے گئے۔واپسی پر مولوی صاحب موصوف کی قبر پر کھڑے ہو کر معہ اصحاب ہمراہیان ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔1221 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار راقم عرض کرتا ہے کہ میاں عبدالکریم صاحب مرحوم حیدر آبادی کو میرے روبرو دیوانہ کہتے نے بورڈنگ ہائی سکول ( جو اس وقت اندرون شہر تھا اور جواب مدرسہ احمدیہ کا بورڈنگ ہے ) کے صحن میں بوقت دن کا ٹا تھا۔میرے سامنے ہی اسے کسولی بھیجا گیا تھا۔وہاں سے علاج کرا کے جب مرحوم واپس